عام آدمی پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ راگھو چڈھا کے اس دعوے پر ردِعمل ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن، یعنی ایس آئی آر، کے دوران ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا یا انہیں ’’شفٹڈ‘‘ کے طور پر نشان زد کر دیا گیا۔عام آدمی پارٹی کے ترجمان انوراگ ڈھانڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راگھو چڈھا کے بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے ان کے مؤقف پر سوال اٹھائے۔ ڈھانڈا نے کہا، ’’کبھی آپ کہتے ہیں کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کرواتا ہے، حکومت نہیں، اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ ایس آئی آر کے دوران پنجاب حکومت نے آپ کا ووٹ کٹوا دیا۔ آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ راگھو چڈھا پنجاب میں رہائش نہیں رکھتے اور انہوں نے دہلی میں بھی اپنا ووٹ رجسٹر نہیں کرایا۔ ڈھانڈا نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے قانونی سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی شخص ووٹر ہی نہیں ہے تو کیا وہ رکنِ پارلیمنٹ رہ سکتا ہے؟ دوسری جانب راگھو چڈھا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ پنجاب سے راجیہ سبھا کے موجودہ رکن ہیں اور ان کا ووٹر آئی ڈی موہالی میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے باوجود ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ان کے نام کو ’’شفٹڈ‘‘ یعنی منتقل شدہ کے طور پر درج کر دیا گیا ہے۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ فی الحال یہ صرف ڈرافٹ ووٹر لسٹ ہے اور حتمی فہرست ابھی جاری نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق دعوے اور اعتراضات کے مرحلے کے دوران ناموں اور دیگر تفصیلات میں تصحیح کی جا سکتی ہے، اور وہ پہلے ہی ایس آئی آر کے رہنما خطوط کے تحت دستیاب طریقۂ کار کے ذریعے اپنے معاملے کی اصلاح کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو محض کتابتی یا انتظامی غلطی ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا معاملہ قرار دیا۔ راگھو چڈھا نے سوال اٹھایا کہ انہیں ’’شفٹڈ‘‘ کے طور پر کس اہلکار نے نشان زد کیا، اس درجہ بندی کی تصدیق کس نے کی اور اسے اعلیٰ سطح پر کس نے منظور یا پراسیس کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان تمام مراحل میں پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت کے تحت کام کرنے والے اہلکار شامل تھے۔ دوسری جانب، اے اے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے راگھو چڈھا کے بیانات میں تضاد قرار دیا ہے۔ اس معاملے کے بعد پنجاب میں ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کو لے کر سیاسی تنازع تیز ہو گیا ہے۔ اب دعووں اور اعتراضات کے مرحلے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ حتمی ووٹر لسٹ میں راگھو چڈھا کے نام کی کیا حیثیت رہتی ہے۔