• News
  • »
  • سیاست
  • »
  • اتر پردیش میں اویسی کا سیاسی داؤ، نجیب آباد سے مغربی یوپی پر نظریں

اتر پردیش میں اویسی کا سیاسی داؤ، نجیب آباد سے مغربی یوپی پر نظریں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 29, 2026 IST

اتر پردیش میں اویسی کا سیاسی داؤ، نجیب آباد سے مغربی یوپی پر نظریں
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی اتر پردیش میں اپنی پارٹی کی سیاسی بنیاد مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت آج بجنور کے نجیب آباد میں منعقد ہونے والے 'پیغامِ اتحاد' پروگرام سے خطاب کریں گے۔ اس جلسے کو مغربی اتر پردیش میں پارٹی کی آئندہ انتخابی حکمت عملی کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
 
پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنائے اور ان نشستوں پر سیاسی امکانات کا جائزہ لے جہاں آئندہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ سخت ہونے کی توقع ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اویسی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
 
اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان شاداب چوہان نے کہا کہ موجودہ حکومت اور بڑی اپوزیشن جماعتوں نے مسلمانوں، پسماندہ طبقات اور ناانصافی کا شکار طبقوں کے مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ان طبقات کو سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اویسی اپنے خطاب میں ان مسائل کے علاوہ مغربی اتر پردیش کے گنے کے کسانوں اور مزدوروں کو درپیش مشکلات پر بھی بات کریں گے۔
 
شاداب چوہان نے مزید کہا کہ اویسی مسلسل تمام سیکولر جماعتوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کر رہے ہیں اور اگر مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پیش آئے تو ان کی جماعت تعاون کے لیے تیار ہے۔
 
نجیب آباد ہی کیوں؟
 
نجیب آباد اسمبلی حلقہ بجنور ضلع کا ایک اہم سیاسی مرکز ہے جہاں مسلم ووٹروں کی قابلِ ذکر تعداد موجود ہے۔ اس کے ساتھ دلت اور مسلم ووٹروں کا ممکنہ اتحاد انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اویسی نے اپنی ریلی کے لیے اسی حلقے کا انتخاب کیا ہے۔
 
اس علاقے میں کسانوں اور مزدوروں کو درپیش معاشی مسائل بھی اے آئی ایم آئی ایم کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کا ایک اہم موقع تصور کیے جا رہے ہیں۔
 
نجیب آباد کے موجودہ رکن اسمبلی حاجی تسلیم کا تعلق سماج وادی پارٹی سے ہے، اس لیے اویسی کی ریلی کو ایس پی کے لیے ایک سیاسی چیلنج کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کارکن گزشتہ کئی روز سے ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے علاقے میں بھرپور عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں۔
 
یوپی میں اویسی کی سرگرمیاں تیز
 
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر ریاست میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اویسی حالیہ مہینوں میں بہرائچ سمیت مختلف اضلاع کے دورے کر چکے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کو اتر پردیش میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، تاہم بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی غیر متوقع کارکردگی نے دیگر سیاسی جماعتوں کو محتاط کر دیا تھا۔
 
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آئندہ انتخابات میں اویسی کی حکمت عملی مغربی اتر پردیش کے انتخابی منظرنامے پر اثر ڈال سکتی ہے، خصوصاً ان حلقوں میں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔