ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں مبینہ تقسیم کے معاملے پر آج اہم پیش رفت متوقع ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی آج لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کریں گے اور ممتا بنرجی کی قیادت والی جماعت کا مؤقف پیش کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ترنمول کانگریس کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا میں انضمام کے بعد خود کو ایک علیحدہ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اس حساس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل دونوں فریقوں کے دلائل سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں ابھیشیک بنرجی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل 10 جون کو ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ ترنمول کانگریس سے الگ دھڑا ہونے کا دعویٰ کرنے والے کسی بھی گروپ کو کوئی سرکاری شناخت، درجہ یا پارلیمانی سہولت فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا تھا کہ ہندوستان کا آئین اور انسدادِ انحراف قانون (اینٹی ڈیفیکشن لا) کسی بھی موجودہ سیاسی جماعت کے اندر الگ گروپ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے باغی اراکین کے دعوے کو قانونی بنیاد پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
اب سیاسی حلقوں کی نظریں لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ دونوں دھڑوں کے دلائل اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔