• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • خود کو بھگوان کا اوتار کہنے والا 59 سالہ رادھا موہن مشرا عصمت دری کے الزام میں گرفتار

خود کو بھگوان کا اوتار کہنے والا 59 سالہ رادھا موہن مشرا عصمت دری کے الزام میں گرفتار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 19, 2026 IST

خود کو بھگوان کا اوتار کہنے والا 59 سالہ رادھا موہن مشرا عصمت دری کے الزام میں گرفتار
مہاراشٹر کے پونے شہر میں ایک خود ساختہ بابا اور اس کے ساتھیوں کو ایک خاتون کے مبینہ جنسی استحصال، ذہنی و جسمانی تشدد اور دھوکہ دہی کے سنگین الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے خود کو بھگوان کا اوتار ظاہر کر کے کئی سال تک اپنے پیروکاروں کو گمراہ کیا اور ان کا استحصال کرتا رہا۔
 
ملزم رادھیشیام مشرا عرف رادھاموہن مشرا پونے کے واگھولی علاقے کے اوبالے نگر میں ایک گروکُل چلاتا تھا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون تقریباً 2010 میں اس کے رابطے میں آئی تھی، جس کے بعد ملزم نے آہستہ آہستہ اسے اس کے خاندان سے دور کر دیا اور اپنے شوہر سے طلاق لینے پر مجبور کیا۔
 
تحقیقات کے مطابق 2010 سے 2016 کے درمیان ملزم نے خاتون کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کیا، اسے جسمانی اذیت دی، بجلی کے جھٹکے دیے اور اس کی قابل اعتراض ویڈیوز بنا کر اسے بلیک میل کرتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے مبینہ روحانی اختیارات اور دھمکیوں کے ذریعے متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان پر دباؤ ڈالتا تھا۔
 
الزام ہے کہ مشرا اور اس کے ساتھی اپنے پیروکاروں کو یہ یقین دلاتے تھے کہ وہ خدا کا دوبارہ جنم ہے اور مذہبی عقیدت کے نام پر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے تھے۔ اس دوران ملزم نے خاتون سے مالی فائدہ بھی حاصل کیا اور اپنے آشرم کے لیے رقم اور قیمتی اشیاء جمع کیں۔
 
پولیس نے آشرم پر چھاپہ مار کر ایک زیر زمین کمرے سے بڑی تعداد میں الیکٹرانک آلات اور دیگر سامان برآمد کیا، جن میں 12 لیپ ٹاپ، 11 موبائل فون، 19 ہارڈ ڈرائیوز، متعدد پین ڈرائیوز اور ویڈیو کیسٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 6.5 لاکھ روپے نقد، تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور بڑی مقدار میں مشتبہ ادویات بھی ضبط کی گئی ہیں۔
 
پولیس نے رادھیشیام مشرا اور اس کے قریبی ساتھی سوامی کنول نین سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں مزید تفتیش کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ اس معاملے میں مزید متاثرین سامنے آ سکتے ہیں، اسی لیے الیکٹرانک آلات کی فرانزک جانچ سمیت تمام پہلوؤں سے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔