• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • اےپی میں سونے کی کان کنی کا آغاز، ملک کا سب سے پرائیوٹ گولڈ مائننگ منصوبہ

اےپی میں سونے کی کان کنی کا آغاز، ملک کا سب سے پرائیوٹ گولڈ مائننگ منصوبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 19, 2026 IST

اےپی میں سونے کی کان  کنی کا آغاز، ملک کا سب سے پرائیوٹ گولڈ مائننگ منصوبہ
 
آندھرا پردیش کے ضلع کرنول کے گاؤں جونّاگیری میں سونے کی کان کنی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ آزادی کے بعد ملک کا سب سے بڑا نجی شعبے کا گولڈ مائننگ پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
 
حکام کے مطابق جیو میسور سروسزپرائیویٹ لمیٹڈ نے اس منصوبے پر 400 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ تقریباً 598 ہیکٹر رقبے پر اوپن پٹ مائننگ کے ذریعے سونے کی کان کنی کی جا رہی ہے۔تخمینہ ہے کہ صرف جونّاگیری علاقے میں تقریباً 50 ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ منصوبہ مکمل صلاحیت کے ساتھ شروع ہونے کے بعد آئندہ 15 برسوں تک ہر سال تقریباً 1000 کلو گرام (ایک ٹن) خالص سونا پیدا کیا جا سکے گا۔
 
حکومت کا مقصد ملک میں سونے کی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ اس وقت بھارت میں سونے کی کھپت سالانہ 800 ٹن سے زیادہ ہے، جبکہ گھریلو پیداوار بہت محدود ہے۔ کرناٹک کی ہُٹّی کانوں سے تقریباً 1.5 ٹن سونا ہی سالانہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ کولار گولڈ فیلڈز 2000 میں بند ہو چکی ہیں۔
 
ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جونّاگیری کان سے ہر ایک ٹن خام معدنی مواد سے تقریباً ایک گرام سونا نکالا جائے گا۔جونّاگیری کے علاوہ آندھرا پردیش کے دیگر علاقوں رام گری، جواکل اور چگُرکُنٹا۔بسنا تم میں بھی سونے کے ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے۔
 
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف آندھرا پردیش کو ملک کے اہم سونے کی پیداوار کرنے والے مراکز میں شامل کرے گا بلکہ معدنی شعبے میں بھارت کو خود کفالت کی جانب لے جانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔