• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں؟

کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 06, 2026 IST

کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں؟
امریکہ  ایران کے خلاف جاری جنگ کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے ۔کبھی وہ دعوی کر تا ہے کہ ایران کے ساتھ انکی بات جاری ہے ،تو کبھی معاہدہ قبول نہ کرنے پر ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتا ہے۔تاہم اسی بیچ میڈیا میں ایک اور دعوی کیا جا رہا ہے کہ ،امریکہ اور ایران کے درمیان 45 دن کی جنگ بندی پر بات چیت جاری ہے۔
 
نیوز بائٹس کی رپورٹ کے مطابق ،یہ دعوی امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے کیا ہے۔ اس نے 4 حکام کے حوالے سے خبر کی تصدیق کی ہے، جس سے جنگ کے مستقل خاتمے کی امید کو تقویت ملی ہے۔
 
 بات چیت میں کون شامل ہے؟
 
میڈیا رپورٹس  میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ،یہ  بات چیت پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالثوں کے ذریعے اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیون وِٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے ہو رہی ہے۔
 
معلومات کے مطابق  ،ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں ایران کو کئی تجاویز دی ہیں، لیکن اب تک ایرانی حکام نے انہیں قبول نہیں کیا ہے۔ ثالث دو مرحلوں والے معاہدے کی شرائط پر امریکہ اور ایران سے بات چیت کر رہے ہیں۔
 
 دو مرحلوں والے معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟
 
رپورٹ کے مطابق، پہلے مرحلے میں ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، جس کے دوران جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔ اگر بات چیت کے لیے زیادہ وقت کی ضرورت پڑی تو جنگ بندی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
 
اس کے بعد دوسرے مرحلے میں جنگ ختم کرنے پر ایک معاہدہ ہوگا۔ ثالث گروپ آبنائے  ہرمز کھولنے اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کا حل چاہتے ہیں اور یہی دونوں ایران کے اہم سودے بازی کے ہتھیار ہیں۔
 
 ایران نے واضح کیا: ہم غزہ اور لبنان نہیں بننا چاہتے
 
رپورٹ کے مطابق، ایرانی صرف 45 دن کی جنگ بندی کے لیے ہرمز اور جوہری پروگرام پر مکمل معاہدہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ثالث گروپ چاہتے ہیں کہ ایران معاہدے کے پہلے مرحلے میں دونوں مسائل پر اقدامات کرے اور ایران کو مستقل جنگ بندی اور اسے دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت ملے۔ایرانی حکام نے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ وہ غزہ-لبنان نہیں بننا چاہتے، جہاں جنگ بندی کاغذوں پر ہو اور امریکہ-اسرائیل جب چاہیں حملہ کر دیں۔
 
 ثالث گروپ بڑا تباہی ٹالنا چاہتے ہیں؟
 
رپورٹ کے مطابق، ثالثوں نے ایرانی حکام سے کہا ہے کہ بات چیت کی حکمت عملی کے لیے وقت نہیں ہے اور یہ اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی تباہی ٹالنے کا آخری موقع ہے۔ ایرانی حکام اب بھی کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اتوار کو کہا کہ آبنائے  ہرمزکی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی کبھی نہیں ہوگی، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔