مغربی ایشیا میں کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت تہران پر مشترکہ میزائل حملے کیے ہیں۔ پیر کے اوائل میں 13 افراد جابحق اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔ سمجھا جاتا ہے کہ امریکہ نے یہ کاروائی ایران کے اپنے فوجی اڈوں پرحملے کے جواب میں کی ہے۔فضائی حملوں میں تہران میں اہم سرکاری عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں شریف یونیورسٹی کی مشہور عمارت اور قریبی گیس پائپ لائن بھی تباہ ہوگئی۔ حملے کے دوران یونیورسٹی میں کوئی طالب علم نہ ہونے کی وجہ سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔جنگ کی وجہ سے ملک بھر کےتعلیمی ادارے بند ہیں اور کلاسز آن لائن ہو رہی ہیں جس سے کیمپس پہلے ہی خالی پڑے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق کئی گھنٹے تک آسمان میں نیچے اُڑتے جنگی طیاروں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ ایرانی حکومت نے جنگی صورتحال کے پیش نظر ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز کا انعقاد کرنے کا حکم دیا ہے۔
6 بچےسمیت 24 افرا شہید درجنوں زخمی
ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ اوراسرائیل کے ایران پر شدید حملے جاری، تہران سمیت مختلف شہروں پر رات بھر بمباری کے نتیجے میں 6 بچوں سمیت 24 افراد شہید درجنوں زخمی ہوگئے۔ تعلیمی اداروں، مساجد اوررہائشی علاقوں کو بھی شید نقصان پہنچا ہے۔رپورٹس کے مطابق تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے۔ حملوں میں معروف ادارے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تہران یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں عمارتوں، مسجد اور قریبی گیس اسٹیشن کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متوفیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں اور کچھ اب بھی پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ وہیں ایران کی آر جی سی نے ایک بار پھر اسرائیل کے حیفہ شہر پر میزائل سے حملہ کردیا جس میں دو لوگوں کی موت ہوگئی۔
یونیورسٹی،مساجد دیگر اداروں پر حملے
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ چوتھی بڑی یونیورسٹی ہے جسے نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک درجنوں مساجد، اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر حملے رپورٹ ہو چکے ہیں۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں 6 بچے شہید ہوئے، جبکہ مختلف شہروں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔ مجموعی طور پر ایران پر حملوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اندھا دھند بمباری50 عمارتوں کو نقصان
دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں اندھا دھند بمباری کے نتیجے میں 3 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ 50 سے زائد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔تہران کے علاوہ بُشہیر، خرج، شیراز اور اصفہان میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ایران میں شہری علاقوں پر اسرائیل-امریکہ کر رہا ہے بمباری، اقوام متحدہ میں ایران کا بیان، 1300 اموات کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
ایران کا شدید ردعمل،جوابی حملہ سے حیفہ میں کھلبلی
ادھر ایران نے اسرائیلی شہر حیفہ پر ایک بار پھر میزائل حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں اسرائیل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ حیفہ شہر پر ایران کے حملے میں دو افراد ہلاک اور دو لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ایران کے نئے حملوں کے بعد وسطی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔ درحقیقت اتوار کو ایران نے اسرائیل پر 4 میزائل داغے جن میں سے ایک بھاری تمیزائل حیفہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ بلاک پر گرا جس سے عمارت کا آدھا حصہ منہدم ہو گیا۔ اس دوران جو حصہ کھڑا تھا وہ بھی غیر متوازن ہو گیا جس سے اس کے گرنے کا خطرہ بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے ریسکیو کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔
حملوں پرایران کا شدید ردے عمل
ایران نے ان حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کی سینٹرل ملٹری کمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزیر ثقافت رضا صالحی امیری نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے الفاظ کا آدمی نہیں ہیں۔ تہران اس وقت ہائی الرٹ پر ہے۔ توانائی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔