ملک کی چار، ریاستوں آسام ، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرل اور مرکزی زیر انتظام علاقہ پڈوچیرو میں پیرکواسمبلی الیکشن کے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ اسمبلی نتائج چونکا دینے والے ہیں۔ بی جےپی کو بنگال اور آسام میں واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ پڈو چیروں میں این ڈی اے اتحاد کو کامیابی ملی ہے۔ کیرل میں لفٹ پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ہے۔ کانگریس اتحاد کو کامیابی ملی ہے۔ تمل ناڈومیں اداکار وجے کی پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ تین ریاستوں کے سی ایم ممتا، اساٹالن اور وجین کو شکست ہوئی ہے۔
آسام اسمبلی الیکشن کے نتائج
آسام میں بی جےپی کو بھاری اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ 126 رکنی اسمبلی میں بی جےپی نے 82 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ کانگریس تقریباً19 اور اےآئی یو ڈی ایف کو دو سیٹوں پرکامیابی ملی ہے۔
ملک میں لفٹ اقتدار کا خاتمہ، کیرل میں کانگریس کو اقتدار
کیرل اسمبلی الیکشن میں کانگریس کی شاندار مظاہرہ کیا ہےْ۔ 140 رکنی اسمبلی میں کانگریس نے 63 سیٹوں پر قبضہ کیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کےساتھ مل کر کانگریس حکومت سازی کرےگی۔ کیرل میں لفٹ پارٹی کا اقتدار ختم ہو گیا ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کو 22 سیٹں حاصل ہوئیں ہیں۔ سی پی ایم کو 26اور سی پی آئی کو 8 سیٹں ملی ہیں۔
پدو چیری اسمبلی الیکشن کےنتائج
پدو چیری کی 30 سیٹوں میں این آئی این آر سی 12 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈی ایم کی 5، بی جےپی 4 اور آئی این ڈی نے 3اور ٹی وی کے کو دو سیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس کو ایک اور دیگر جماعتوں کو بھی سیٹیں ملی ہیں۔ پڈو چیرو میں این ڈی اے کو اقتدار حاصل ہوا ہے۔
تمل ناڈو اسمبلی الیکشن کے نتائج
تمل ناڈو اسمبلی نتائج میں اداکار سے سیاست داں بنے وجے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ تادم تحریر وجے کی پارٹی نے 234 رکنی اسمبلی میں 107 سیٹوں پر جیت اور لیڈ بنائے ہوئے ہے۔ اقتدار کےلئے جادوئی عدد118 درکار ہے۔ وجے کےوالد نے اقتدار میں حصہ داری کےلئے کانگریس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ دیگر چھوٹی پارٹیوں کی بھی وجے کو مدد مل سکتی ہے۔ ڈی ایم نے 60،اے آئی ڈی ایم کی 47، کانگریس 5، بی جےپی ایک سیٹ کےعلاوہ دیگر پارٹیوں نے بھی جیت حاصل کی ہے۔
مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے نتائج
مغربی بنگال کی سیاست میں بی جے پی کا اقتدار پر قبضہ، ممتا بنرجی کے گڑھ بی جے پی کا کمل کھلا ہے۔ تادم تحریر بی جےپی نے بنگال میں 208 سیٹوں پر جیت یا سبقت بنائے ہوئے ہے۔ ٹی ایم سی 79 سیٹوں پر جیت اور سبقت بنائے ہوئے ہے۔
ہمایوں کبیر کی پارٹی کو دوسیٹ
جبکہ کانگریس دو سیٹوں پر، ہمایوں کبیر کی پاٹی اے جے یو پی دو سیٹوں پر سی پی ایم ایک اور اے آئی ایس ایف ایک سیٹ پرجیت حاصل کی ہے۔ سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث کا باعث بنی ہے۔
اویسی کی پارٹی کا کھاتہ نہیں کھولا
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بنگال الیشکن میں اپنا کھاتا نہیں کھولا۔ ایم آئی ایم نے ریاست کے 12 سیٹوں پر اپنے امیدوار کو اْتارا تھا۔ الیکشن سے پہلے اویسی نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد کیا تھا۔ ہمایوں کبیر کا ویڈیو وائرل ہونے کےبعد اویسی نے اتحاد کو توڑ دیا۔ا ور تنہا سیاسی قسمت آزمائی کی۔ اور انھیں کامیابی نہیں ملی ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 200 سے زائد نشستوں کی اس شاندار جیت کے پیچھے نہ صرف روایتی جلسے اور جلسے ہیں بلکہ میدانی سطح پر کثیر جہتی حکمت عملی کے ساتھ ایک منظم منصوبہ بندی بھی ہے۔ وہ تجزیہ کرتے ہیں کہ بی جے پی نے ثقافتی اور کھیلوں کے پروگراموں سے لے کر تنظیم سازی تک ہر پہلو پر خصوصی توجہ دی ہے۔
تین وزرئےاعلیٰ کو شکست
مغربی بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی بھنانی پور سیٹ سے تقریباً 15 ہزار سےزائد ووٹوں سے ہار چکی ہیں۔ اسی طرح تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اسٹالن بھی شکست کا مزہ چک چکےہیں۔ اور کیرل کےوزیراعلیٰ وجین کو بھی کراری شکست ملی ہے۔