Monday, May 04, 2026 | 16 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • تمل ناڈو میں بڑا اپ سیٹ: ایم کے اسٹالن اپنے گڑھ کولاتھور سے ہار گئے، وجے کی پارٹی ،ٹی وی کے، کا بڑا دھماکہ

تمل ناڈو میں بڑا اپ سیٹ: ایم کے اسٹالن اپنے گڑھ کولاتھور سے ہار گئے، وجے کی پارٹی ،ٹی وی کے، کا بڑا دھماکہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 04, 2026 IST

تمل ناڈو میں بڑا اپ سیٹ: ایم کے اسٹالن اپنے گڑھ کولاتھور سے ہار گئے، وجے کی پارٹی ،ٹی وی کے، کا بڑا دھماکہ
تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 میں ایک حیران کن سیاسی موڑ سامنے آیا ہے، جہاں موجودہ وزیر اعلیٰ اور ایم کے اسٹالن کو ان کے مضبوط گڑھ کولاتھور اسمبلی حلقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہیں وی ایس بابو نے شکست دی، جو وجے کی پارٹی (TVK) کے امیدوار تھے۔
 
یہ سیٹ اسٹالن کا مضبوط قلعہ سمجھی جاتی تھی، جہاں سے وہ 2011، 2016 اور 2021 میں مسلسل کامیاب ہوتے رہے تھے۔ اس شکست کو ریاستی سیاست میں ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کولاتھور حلقہ 2011 میں تشکیل پانے کے بعد سے مسلسل ان کے قبضے میں تھا۔
 
دلچسپ بات یہ ہے کہ وی ایس بابو کبھی ڈی ایم کے (DMK) کے ساتھ وابستہ تھے اور 2011 میں خود اسٹالن کے انتخابی انچارج رہ چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پارٹی چھوڑ کر اے آئی اے ڈی ایم کے (AIADMK) میں شمولیت اختیار کی اور پھر فروری 2026 میں TVK میں شامل ہو کر اسی پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔
 
اس الیکشن میں صرف اسٹالن ہی نہیں بلکہ ڈی ایم کے کے کئی سینئر رہنما بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری دورائی مروگن سمیت متعدد وزراء اور اہم لیڈران کو سخت مقابلے کا سامنا ہے، جو پارٹی کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
 
سیاسی مبصرین کے مطابق، وجے کی قیادت میں TVK کی یہ شاندار کارکردگی تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ پارٹی نے محض دو سال کے اندر وہ کامیابی حاصل کر لی ہے جو عموماً دہائیوں میں ممکن ہوتی ہے، اور اب اسے عام آدمی پارٹی (AAP)، آسام گنا پریشد اور تیلگو دیشم پارٹی جیسی جماعتوں کی صف میں شمار کیا جا رہا ہے، جنہوں نے اپنے ابتدائی انتخابات میں ہی اقتدار حاصل کیا۔
 
یہ نتائج نہ صرف ڈی ایم کے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں بلکہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ بھی دے رہے ہیں، جہاں روایتی جماعتوں کی جگہ نئی قیادت ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔