مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے تازہ رجحانات نے ریاست کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر کر دیا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) 198 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ترنمول کانگریس (TMC) تقریباً 90 سیٹوں تک محدود نظر آ رہی ہے، جس سے بی جے پی کی واضح برتری سامنے آتی ہے۔
اسی دوران ٹی ایم سی کی سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سیانی گھوش کے بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا، "ہم زمین پر ہیں، اور ہم زمین پر ہی رہیں گے۔ ای سی آئی سے حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ جوئے بنگلہ۔" ان کے اس بیان کو کئی مبصرین نے شکست تسلیم کرنے کے اشارے کے طور پر دیکھا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران سیانی گھوش ممتا بنرجی کی قریبی ساتھی کے طور پر نمایاں رہیں اور انہوں نے بی جے پی قیادت، خصوصاً نریندر مودی اور امیت شاہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم موجودہ رجحانات ان کے دعوؤں کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ایم سی کی کمزور کارکردگی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن میں ووٹ بینک میں ممکنہ تقسیم، خاص طور پر مسلم ووٹرز میں دراڑ، اور بعض علاقوں میں ہندو ووٹرز کی زیادہ شرکت شامل ہے۔ اس کے علاوہ انڈین نیشنل کانگریس کی موجودگی نے بھی بعض حلقوں میں ٹی ایم سی کے روایتی ووٹ کو متاثر کیا۔
دوسری جانب بی جے پی کارکنان میں زبردست جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کولکتہ سمیت مختلف علاقوں میں پارٹی کارکن جشن مناتے نظر آ رہے ہیں، جہاں مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں اور "جئے شری رام" کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔
اگر یہ رجحانات برقرار رہتے ہیں تو یہ نہ صرف مغربی بنگال بلکہ قومی سیاست کے لیے بھی ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے، جہاں بی جے پی پہلی بار ریاست میں مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔