Monday, August 31, 2026 | 16 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی انٹری؟

مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی انٹری؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 31, 2026 IST

مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی انٹری؟
بنگلہ دیش نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ میں شامل ہونے میں دلچسپی کا عندیہ دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ اگر ڈھاکہ کو اس معاہدے میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے تو اس کے ممکنہ فوائد اور اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ہمایوں کبیر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں شمولیت سے بنگلہ دیش کے لیے کوئی واضح منفی پہلو نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس سے دوسرے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر کوئی بڑا اثر پڑنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں بنگلہ دیش کو اپنی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی تعاون کو لچکدار انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
 
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ہمایوں کبیر نے حال ہی میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ ظفر بن ابیہ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے معاہدے کو ایک منفرد نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
 
بنگلہ دیشی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی ایک دفاعی یا سفارتی شراکت داری میں شامل ہونا دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے مترادف نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول میں ممالک کو مختلف خطوں اور اتحادوں کے ساتھ بیک وقت تعاون کے راستے کھلے رکھنے چاہئیں۔اس سے قبل بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ علی الرحمٰن نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی باقاعدہ تجویز بنگلہ دیش کو موصول ہوتی ہے تو حکومت اس پر غور کرے گی۔ انہوں نے اسے مسلم ممالک کے درمیان تعاون کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر دیگر ممالک کو غیر ضروری طور پر تشویش نہیں کرنی چاہیے۔
 
اگر بنگلہ دیش مستقبل میں اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو جنوبی ایشیا کی سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال میں ایک نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطوں پر بھی خطے میں نظر رکھی جا رہی ہے۔تاہم بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ اس لیے اسے کسی نئے ’اسلامی فوجی اتحاد‘ کی تشکیل کے طور پر پیش کرنے کے بجائے فی الحال ایک ممکنہ سفارتی اور دفاعی شراکت داری کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔