نیپال میں آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ کے بعد حالات بدستور انتہائی سنگین ہیں۔ سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 781 ہو گئی ہے، جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں تباہی کا منظر برقرار ہے اور ریسکیو و امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرہ آٹھ اضلاع سے مزید لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ پانچویں روز بھی ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ سیلاب نے کئی علاقوں میں گھروں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوسری جانب، سیلابی ملبے سے بھری مختلف سرنگوں میں پھنسے ہائیڈرو پاور ورکرز کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ امدادی ٹیموں نے سرنگوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کھدائی، ڈرلنگ اور بعض مقامات پر دھماکہ خیز مواد کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق مختلف ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی سرنگوں میں 100 سے زائد کارکنوں کے زندہ پھنسے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر تریشولی تھری اے اور تھری بی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں ریسکیو آپریشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے اور سرنگوں میں ممکنہ راستے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
ادھر سیلاب سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد عارضی امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ متاثرین کو خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔بعض علاقوں میں تباہی کی شدت کے باعث نامعلوم افراد کی لاشوں کی اجتماعی تدفین بھی شروع کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں پریشان ہیں اور ریسکیو ٹیموں کی کارروائیوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ نیپال میں آنے والا یہ فلیش فلڈ ملک کے حالیہ برسوں کے بدترین قدرتی سانحات میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔ حکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش، ملبے میں پھنسے کارکنوں کو زندہ نکالنا اور بے گھر ہونے والے ہزاروں متاثرین تک فوری امداد پہنچانا ہے۔