Tuesday, June 16, 2026 | 29 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بریسٹ کینسرسے بچاؤ اور بروقت تشخیص کیوں ضروری؟

بریسٹ کینسرسے بچاؤ اور بروقت تشخیص کیوں ضروری؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 15, 2026 IST

بریسٹ کینسرسے بچاؤ اور بروقت تشخیص کیوں ضروری؟
بریسٹ کینسر( چھاتی کا کینسر) دنیا بھر میں خواتین کو متاثر کرنے والی عام بیماریوں میں شامل ہے، لیکن آگاہی، بروقت اسکریننگ اور جدید علاج کے ذریعے اس بیماری پر قابو پانا ممکن ہے۔ اسی مقصد کے تحت صحت سے متعلق پروگرام " ہیلتھ اور ہم " میں بریسٹ کینسر کے موضوع پر خصوصی گفتگو کی گئی، جس میں کِمز سن شائن ہاسپٹل ، بیگم پیٹ حیدرآباد کی کنسلٹنٹ میڈیکل آنکولوجسٹ اور بون میرو ٹرانسپلانٹ فزیشن ڈاکٹر وی۔ نویا مانسا نے اہم معلومات فراہم کیں۔

 کیوں ہوتا ہے چھاتی کا کینسر؟

ڈاکٹر نویا مانسا نے بتایا کہ بریسٹ کینسر اس وقت ہوتا ہے جب چھاتی کے خلیات غیر معمولی طریقے سے بڑھنے لگتے ہیں اور ایک گلٹی یا ٹیومر کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری صرف خواتین تک محدود نہیں ہے، بلکہ بہت کم تعداد میں مرد بھی بریسٹ کینسر سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی!

انہوں نے بتایا کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات میں چھاتی میں گلٹی محسوس ہونا، چھاتی کے سائز یا شکل میں تبدیلی، نپل سے غیر معمولی اخراج، جلد میں تبدیلی یا درد شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی، اس لیے کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

 کونسےعوامی بریسٹ کینسر کے خطرے کو بڑھاتے سکتےہیں؟

ماہرین کے مطابق بریسٹ کینسر کے خطرے کے عوامل میں خاندانی تاریخ، عمر، ہارمونی تبدیلیاں، موٹاپا، غیر متوازن طرز زندگی اور کچھ جینیاتی تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر نے بی آر سی اے1 اور بی آر سی اے2 جین میوٹیشن کے بارے میں بھی بتایا، جو بعض افراد میں بریسٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

 ابتدائی جانچ خود کیسے کریں؟

ڈاکٹر نویا مانسا نے کہا کہ سیلف بریسٹ ایگزامینیشن خواتین کے لیے ایک اہم طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو جلد محسوس کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ میموگرافی ایک اہم اسکریننگ ٹیسٹ ہے، جس سے ابتدائی مرحلے میں بیماری کی شناخت میں مدد ملتی ہے۔

 طریقہ علاج کیا ہیں؟

انہوں نے واضح کیا کہ بریسٹ کینسر کا علاج بیماری کے مرحلے کے مطابق کیا جاتا ہے۔ علاج میں سرجری، کیموتھراپی، ریڈی ایشن تھراپی، ہارمون تھراپی اور جدید ٹارگٹڈ تھراپی شامل ہو سکتی ہیں۔ اگر بیماری کا پتہ ابتدائی مرحلے میں چل جائے تو علاج کے کامیاب امکانات کافی بہتر ہوتے ہیں۔

بریسٹ کینسر سے خوفزدہ نہ ہوں

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بریسٹ کینسر کو خوف کے بجائے آگاہی کے ساتھ سمجھیں۔ باقاعدہ چیک اپ، صحت مند طرز زندگی، متوازن غذا اور بروقت طبی مشورہ اس بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 جلد تشخیص زندگی بچا سکتی ہے

ڈاکٹر نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ جلد تشخیص زندگی بچا سکتی ہے۔ خواتین کو اپنی صحت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور کسی بھی غیرمعمولی علامت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
قارئین ڈاکٹرچھاتی کےکینسر پر ڈاکٹر کی مکمل گفتگو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔