مرکزی رویت ہلال کمیٹی صدرمجلس علماء دکن کا ماہانہ اجلاس بضمن رویت ہلال ماہ محرم الحرام 16 جون بروز منگل 6بجے شام بمقام حسینی بلڈنگ معظم جاہی مارکٹ حیدرآباد زیرنگرانی مولانا سید حسن ابراہیم حسینی قادری سجاد پاشاہ معتمد صدر مجلس علماء دکن منعقد ہوا۔اجلاس میں محرم الحرام كا چاند نظر آنے کا اعلان کیا گیا۔ بروز چہارشنبہ 17جون یکم محرالحرام 1448 ہجری ہوگی۔ اس کے مطابق یوم عاشوره 26جون بروز جمعہ كو ہوگا۔
ماہ محرم الحرام اوریوم عاشورہ
محرم الحرام اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے۔ اس مقدس مہینے میں تاریخِ اسلام کے کئی عظیم اور اہم ترین واقعات رونما ہوئے ہیں، محرم میں سیدنا امام حسینؓ کی شہادت اور دیگر اہم اسلامی معرکے شامل ہیں۔ یوم عاشورہ کی بڑی فضیلت ہے۔یوم عاشورہ (10 محرم) اسلام میں انتہائی عظمت اور برکت والا دن ہے۔
غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی روح پَرور تقریب
نئے اسلامی سال کے آغاز پرمسجدِ الحرام میں اللہ کے گھر یعنی کعبہ کےغلاف کی تبدیل کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز پر مسجدِ الحرام میں غلافِ کعبہ (کسوہ) کی تبدیلی کی انتہائی روح پرور اور بابرکت تقریب منعقد ہوئی۔حرمین شریفین انتظامیہ کے کارکنوں اور 250 سے زائد ماہر کاریگروں و خطاط نے اس مقدس عمل میں حصہ لیا، جس کے بعد تقریباً 4 گھنٹے کی مسلسل محنت سے خانہ کعبہ پر نیا غلاف لگایا گیا۔
کسوہ کی تیاری میں سونا اور چاندی کی استعمال
مقدس کسوہ کی تیاری کنگ عبدالعزیز کسوہ کمپلیکس (کسوہ فیکٹری) میں 11 ماہ کی انتھک محنت سے مکمل کی گئی۔نیا غلافِ کعبہ مجموعی طور پر 1415 کلوگرام وزنی ہے، جسے تیار کرنے کے لیے 1000 کلوگرام خالص ریشم استعمال کیا گیا ہے۔غلاف پر قرآنی آیات کی انتہائی نفاست سے کشیدہ کاری کی گئی ہے، جس میں 120 کلوگرام خالص سونا (24 قیراط) اور 100 کلوگرام چاندی کے دھاگے استعمال ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سال 2022 سے غلافِ کعبہ کی تبدیلی یکم محرم الحرام کو نئے اسلامی سال کے آغاز پر کی جا رہی ہے، جبکہ اس سے قبل کئی دہائیوں تک یہ عمل 9 ذوالحج کی صبح کو حجاج کرام کی میدانِ عرفات روانگی کے بعد سرانجام دیا جاتا تھا۔
اسلامی کیلنڈرکی شروعات
اسلامی کیلنڈر (ہجری کیلنڈر) کی شروعات خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں سنہ 17 ہجری (مطابق 638 عیسوی) میں ہوئی۔ صحابہ کرام کی مشاورت سے ہجرتِ مدینہ کو اس کیلنڈر کی بنیاد بنایا گیا۔اس کیلنڈر کا پہلا اسلامی مہینہ محرم الحرام ہے اور اس کی ابتدا یکم محرم 1 ہجری (16 جولائی 622 عیسوی) سے ہوئی تھی۔ یہ مکمل طور پر ایک قمری کیلنڈر ہے جس میں سال میں 12 مہینے اور 354 یا 355 دن ہوتے ہیں۔
ہجرت نبوی سے اسلامی کیلنڈر کا نقطہ آغاز
حضور نبی اکرم ﷺ کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے تاریخی واقعہ (ہجرتِ نبوی) کو اس کا نقطہ آغاز مانا گیا۔ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کے دور میں دفتری اور تاریخی دستاویزات کے نظام کو درست کرنے کے لیے اس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
یوم عاشورہ کی فصلیت
یوم عاشورہ (10 محرم) اسلام میں انتہائی عظمت اور برکت والا دن ہے۔ اس دن کا سب سے بڑا فضیلت والا عمل روزہ رکھنا ہے۔ احادیث کی رو سے، عاشورہ کا روزہ رکھنے کے سبب پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔" (صحیح مسلم) ہجرت کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ "ہم موسیٰ
علیہ السلام کے زیادہ حقدار ہیں" اور مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
مخالفتِ یہود: یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے امت کو ہدایت فرمائی کہ عاشورہ کے ساتھ ایک روزہ اور ملایا جائے، یعنی یا تو 9 اور 10 محرم کا روزہ رکھا جائے یا 10 اور 11 محرم کا۔
یوم عاشورہ اور واقعہ کربلا
واقعہ کربلا، 10 محرم الحرام 61 ہجری (680ء) کو پیش آیا، جو باطل کے سامنے حق کی لازوال قربانی ہے۔اس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا۔
:مختصر تاریخی خاکہ:پسِ منظر
یزید نے تخت نشین ہونے کے بعد امام حسینؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا۔امام حسینؓ نے امتِ مسلمہ کی اصلاح اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے بیعت سے انکار کر دیا، اور اہل کوفہ کی دعوت پر کوفہ روانہ ہوئے۔
:کربلا میں محاصرہ
راستے میں یزیدی فوج نے آپ کے قافلے کا راستہ روک لیا اور انہیں میدانِ کربلا (عراق) میں پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کیا۔محرم کے ابتدائی دنوں میں ہی امامؓ اور ان کے خاندان پر پانی کی فراہمی بند کر دی گئی۔
روزِ عاشورہ: 10 محرم کو یزیدی لشکر نے حملہ کیا۔ امام حسینؓ کے ساتھیوں، اور بعد ازاں آپ کے جوان بیٹوں اور بھتیجوں (بشمول حضرت علی اکبرؓ اور حضرت قاسمؓ) نے بے مثال شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
شہادت امام حسین : تمام ساتھیوں کی شہادت کے بعد، آخری لمحات میں حضرت امام حسینؓ نے اکیلے دشمن کا مقابلہ کیا اور نمازِ عصر کے وقت سجدے کی حالت میں شہید کر دیے گئے۔ حضرت امام حسین نے باطل کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ حق کےلئے اپنی جان قربان کر دی ۔یہ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم و جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے جان کی بازی لگا دینا ہی اصل کامیابی ہے۔