بہار میں انیس آباد کو دیدار گنج سے جوڑنے کے لیے مجوزہ 13 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ روڈ منصوبہ اپنی مبینہ 8,500 کروڑ روپے کی لاگت کے باعث عوامی اور سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ منصوبے کی تخمینی لاگت سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، منصوبے کی ابتدائی تخمینہ لاگت کے مقابلے میں اب اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر فاصلے کے اس منصوبے پر اتنی بڑی رقم خرچ کیے جانے کو لے کر شفافیت اور مالی منصوبہ بندی پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
وہیں دوسری طرف لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبے کی لاگت واقعی 8,500 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے تو حکومت کو اس کی مکمل مالی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبے کے ہر مرحلے، زمین کے حصول، تعمیراتی اخراجات کی الگ الگ وضاحت شائع کی جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ اتنی بڑی رقم کس مد میں خرچ کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ایلیویٹڈ روڈ منصوبے کی لاگت صرف سڑک کی لمبائی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ زمین کے حصول، متاثرہ ڈھانچوں کی منتقلی، پلوں اور انٹرچینجز کی تعمیر، یوٹیلیٹی شفٹنگ، جدید انجینئرنگ، تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی جیسے متعدد عوامل بھی مجموعی لاگت کو متاثر کرتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے شہری بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مستقبل کی ٹریفک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں اور ابتدائی تخمینوں میں وقت کے ساتھ نظرثانی ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ تاہم، اس معاملے پر اب تک تفصیلی سرکاری بریک ڈاؤن سامنے نہیں آیا ہے۔ اس منصوبے نے ایک بار پھر بڑے عوامی منصوبوں میں شفافیت اور مالی جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تو متعلقہ حکام کو اس کی وجوہات اور اخراجات کی مکمل تفصیل جاری کرنی چاہیے تاکہ عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جا سکے۔