امریکی-ایران کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کے بعد بھارتی روپے پر بھی دباؤ بڑھ گیا تھا۔ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے پیش نظر ریزرو بینک آف انڈیا نےغیر ملکی فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے اربوں ڈالر فروخت کیے، جس کے نتیجے میں روپے کو استحکام حاصل ہوا۔
روپے کو سہارا دینے کے لیے آر بی آئی کی مداخلت
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ریزرو بینک آف انڈیا نے 24 جولائی کو تقریباً 7 ارب امریکی ڈالر فروخت کیے تاکہ روپے کی قدر میں مزید کمی کو روکا جا سکے۔ یہ کئی مہینوں بعد پہلی مرتبہ تھا کہ آر بی آئی نے براہ راست فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مداخلت کی۔ اگرچہ مرکزی بینک نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس کے بعد بھی دو مسلسل تجارتی سیشنز میں ڈالر کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ آر بی آئی کی مداخلت کے بعد بھارتی روپیہ اپنی ریکارڈ کم ترین سطح سے کچھ حد تک بحال ہوا۔ جمعرات کو روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے 95.7437 تک پہنچ گئی، جو اس کی تاریخی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.3 فیصد بہتر رہی۔
خام تیل کی مہنگائی نے دباؤ بڑھایا
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ رواں ماہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیوں پر اضافی دباؤ ڈالا۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا اور روپے پر دباؤ بڑھ گیا۔ اسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آر بی آئی نے ڈالر فروخت کر کے مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ مرکزی بینک نے حالیہ مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ڈالر کی آمد بڑھانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ آر بی آئی کے اہلکار سنجے ملہوترا کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں بینکوں نے تقریباً 32 ارب ڈالر کے فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔
معاشی ماہرین کی رائے
اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی تک بھارت کے فارن ایکسچینج کے ذخائر 676.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 9 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط زرمبادلہ کے ذخائر آر بی آئی کو مستقبل میں بھی روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر مداخلت کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر عالمی جغرافیائی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا تو روپے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر اور آر بی آئی کی بروقت مداخلت بھارتی کرنسی کو غیر معمولی گراوٹ سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔