بانجھ پن (Infertility) ایک ایسا طبی مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں جوڑوں کو متاثر کرتا ہے، تاہم آج بھی اس حوالے سے معاشرے میں متعدد غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بانجھ پن کی وجوہات صرف خواتین تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ مرد اور خواتین دونوں یکساں طور پر اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے تشخیص کے دوران دونوں کی مکمل طبی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ کنسلٹنٹ انفرٹیلیٹی اینڈ ری پروڈکٹیو میڈیسن، ڈاکٹر اکیلا پریتی بٹو نے کہا کہ اگر ایک سال تک باقاعدہ ازدواجی تعلقات کے باوجود حمل نہ ٹھہرے تو جوڑے کو ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ تاہم اگر خاتون کی عمر 35 سال یا اس سے زیادہ ہو تو چھ ماہ انتظار کرنے کے بجائے جلد طبی مشورہ لینا بہتر ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بانجھ پن کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ Primary infertility اس صورت کو کہا جاتا ہے جب کسی جوڑے کو کبھی حمل نہ ٹھہرا ہو، جبکہ ثانوی بانجھ پن میں پہلے حمل ہونے کے بعد دوبارہ حمل نہ ٹھہر سکے۔ڈاکٹر اکیلا پریتی بٹو کے مطابق بڑھتی عمر، غیر صحت بخش طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، موٹاپا، تمباکو نوشی، ہارمونل بے ترتیبی اور بعض دائمی بیماریاں بانجھ پن کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ ان عوامل پر بروقت توجہ دے کر کئی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین میں بانجھ پن کی عام وجوہات میں پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)، اینڈومیٹریوسس، فیلوپین ٹیوبز کی بندش، ہارمونل مسائل اور عمر میں اضافہ شامل ہیں۔ دوسری جانب مردوں میں سپرم کی کم تعداد، سپرم کی کمزور حرکت، غیر معمولی ساخت، ہارمونل خرابی، انفیکشن اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل اہم وجوہات سمجھے جاتے ہیں۔تشخیص کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے دونوں میاں بیوی کی طبی ہسٹری لی جاتی ہے، جس کے بعد ضرورت کے مطابق خون کے ٹیسٹ، ہارمونل جانچ، الٹراساؤنڈ، سپرم اینالیسز اور دیگر ضروری معائنے کیے جاتے ہیں تاکہ مسئلے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
علاج کے بارے میں ڈاکٹر اکیلا پریتی بٹو نے کہا کہ ہر مریض کا علاج اس کی عمر، طبی کیفیت اور بانجھ پن کی وجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ بعض کیسز میں طرزِ زندگی میں تبدیلی اور ادویات مؤثر ثابت ہوتی ہیں، جبکہ بعض مریضوں کو IUI یا IVF جیسی جدید تولیدی ٹیکنالوجی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بانجھ پن کو سماجی بدنامی یا شرمندگی کا باعث بنانے کے بجائے ایک قابلِ علاج طبی مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص، درست علاج اور ماہرین کی رہنمائی سے بہت سے جوڑوں کے لیے والدین بننے کی امیدیں حقیقت میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
تفصیلی معلومات کے لیے یہاں کلک کریں👇