• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • زلزلے سے تباہ وینزویلا، ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ

زلزلے سے تباہ وینزویلا، ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jun 29, 2026 IST

زلزلے سے تباہ وینزویلا، ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ
وینزویلا گزشتہ ہفتے آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے بعد شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ زندہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے اہم سمجھے جانے والے ابتدائی 72 گھنٹوں کا دورانیہ گزر چکا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ امید برقرار رکھتے ہوئے ریسکیو آپریشن پوری شدت سے جاری رکھا جائے گا۔
 
قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز کے مطابق اتوار تک زلزلے میں جاں بحق افراد کی تعداد تقریباً 1,450 ہو گئی ہے، جبکہ 3,150 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 12,721 افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 774 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔
 
حکومت نے بتایا کہ ہفتے کی شام تک کم از کم 33 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق پایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن سے وابستہ ایک ویب سائٹ کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد لاپتہ ہیں، جبکہ سرکاری حکام اس تعداد کو اس سے کہیں کم قرار دے رہے ہیں۔
 
24 جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے سب سے زیادہ تباہی ریاست لا گویرا میں مچائی، جو دارالحکومت کراکس سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ کئی رہائشی اور تجارتی عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں، جس کے باعث ہزاروں افراد ملبے تلے دب گئے اور متعدد ممالک نے امدادی ٹیمیں روانہ کیں۔
 
جارج روڈریگز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے والے مقامی رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تعاون قابلِ ستائش ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ سے بچنے اور ہنگامی گاڑیوں کی نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے بعض سڑکوں تک عام شہریوں کی رسائی عارضی طور پر محدود کر دی گئی ہے۔
 
انہوں نے کہا، "بچاؤ اور بحالی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ آج بھی کئی افراد کو زندہ نکالا گیا ہے، اسی لیے ہم یہ آپریشن بند نہیں کر رہے۔ جب تک امید باقی ہے، تلاش کا عمل جاری رہے گا۔"
 
عبوری حکومت نے بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور امدادی اداروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ حکام کے مطابق بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائشی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ پناہ فراہم کی جا سکے۔
 
روڈریگز نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح زیادہ سے زیادہ جانیں بچانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ملک بھر سے وسائل متاثرہ علاقوں کی جانب منتقل کیے جا رہے ہیں۔
 
مقامی رضاکار اور متاثرہ خاندان کئی دنوں تک محدود وسائل کے ساتھ خود ہی ملبہ ہٹاتے رہے، جبکہ بعد ازاں 2,600 سے زائد غیر ملکی امدادی اہلکار بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہو گئے۔ مسلسل آنے والے آفٹر شاکس نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔
 
حکام کے مطابق لا گویرا میں بجلی کی فراہمی تقریباً 75 فیصد بحال کر دی گئی ہے، جبکہ اسکول مزید ایک ہفتے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بحالی کے کام بلا رکاوٹ جاری رہ سکیں۔