دین دیال اپادھیائے گورکھپور یونیورسٹی (DDUGU) میں منگل کے روز طلبہ کے احتجاج کے دوران اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب دھرنے پر بیٹھے طلبہ اور یونیورسٹی کے ایڈیشنل پراکٹر ڈاکٹر وید پرکاش رائے کے درمیان بحث شدت اختیار کر گئی۔ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ کچھ طلبہ نے ایڈیشنل پراکٹر کا پیچھا شروع کر دیا۔ بعد میں پولیس اور یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈز نے انہیں بحفاظت ان کے دفتر تک پہنچایا۔ اس واقعے کے دوران گورکھپور پولیس کے ایک سب انسپکٹر کی مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار احتجاج کرنے والے طلبہ کو ڈانٹتے اور سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں انہیں مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اتنی فورس تعینات کریں گے کہ طلبہ احتجاج نہیں کر سکیں گے۔
اکھلیش یادو نے پولیس کے رویے پر سوال اٹھایا
واقعے پر سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ تحمل اور شائستگی سے پیش آنا چاہیے۔اکھلیش یادو نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ طلبہ احتجاج کر رہے ہیں، انہیں مجرم سمجھ کر سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ دریں اثنا، کانگریس ترجمان سریندر راجپوت نے بھی گورکھپور پولیس کے رویے پر سوال اٹھائے اور الزام لگایا کہ پولیس سیاسی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔
25 اگست سے جاری ہے طلبہ کا احتجاج
اطلاعات کے مطابق طلبہ اپنے مطالبات اور یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف 25 اگست سے انتظامی عمارت کے سامنے دھرنا دے رہے ہیں۔ طلبہ رہنماؤں ستیش پرجاپتی اور اجول سنگھ نے 5 ستمبر سے بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔ 8 ستمبر کو دوپہر تقریباً 2:30 بجے ایڈیشنل پراکٹر ڈاکٹر وید پرکاش رائے احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کے لیے پہنچے۔ تاہم مطالبات پر اتفاق نہ ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی، جو بعد میں شدید تلخ کلامی میں تبدیل ہوگئی۔
بتایا جاتا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہونے کے بعد کچھ طلبہ نے ایڈیشنل پراکٹر کا پیچھا کیا۔ ویڈیو میں انہیں انتظامی عمارت کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ بعد میں پولیس اور یونیورسٹی کے گارڈز نے انہیں محفوظ طریقے سے دفتر پہنچایا۔فی الحال یونیورسٹی میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ ان کے مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں کرتی، ان کی تحریک جاری رہے گی۔