اترپردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو منہدم کیے جانے کا معاملہ اب الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ مسجد کمیٹی کی جانب سے عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں ضلع انتظامیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ مسجد کو بغیر مناسب قانونی نوٹس اور الگ سے انہدام کا حکم جاری کیے منہدم کیا گیا۔ یہ درخواست مسجد کمیٹی کے متولی محمد تنویر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں ضلع انتظامیہ، اترپردیش حکومت اور وقف بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ مسجد کمیٹی کا الزام ہے کہ انہدام کی پوری کارروائی کے دوران مناسب قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ درخواست میں عبادت گاہوں سے متعلق قانون، 1991 کی مبینہ خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ اس درخواست پر آئندہ ہفتے سماعت متوقع ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے 5 ستمبر کی صبح سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں موجود مسجد کو انتظامیہ نے منہدم کر دیا۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ کارروائی ایک عدالتی حکم کے بعد کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔مسجد کے انہدام کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا۔ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور مسجد کے نمائندوں نے کارروائی کو یکطرفہ اور من مانی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کی زمین سے متعلق ملکیتی حقوق اب بھی مسجد کمیٹی کے پاس ہیں۔رپورٹ کے مطابق، معاملے کو لے کر سہارنپور پہنچنے کی کوشش کرنے والے کچھ اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی انتظامی کارروائی کی گئی۔ عمران مسعود نے اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی بات کہی تھی۔
مسجد کی قانونی حیثیت سے متعلق معاملہ سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ پیش کیے گئے دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر عدالت نے مسجد کی قانونی حیثیت کے خلاف فیصلہ سنایا اور اسے منہدم کرنے کے ساتھ 6 کروڑ روپے سے زائد معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا۔ مسجد کمیٹی نے اس فیصلے کے خلاف ضلعی عدالت میں اپیل دائر کی، تاہم بتایا جاتا ہے کہ وہاں بھی کمیٹی کی درخواست شواہد کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ضلع انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی کی۔
اب مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے انہدام کے طریقہ کار اور قانونی بنیاد کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا کارروائی سے قبل تمام ضروری قانونی مراحل مکمل کیے گئے تھے۔ہائی کورٹ میں ہونے والی آئندہ سماعت اس معاملے میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عدالت کے سامنے اب مسجد کمیٹی کے قانونی اعتراضات، انتظامیہ کی کارروائی اور متعلقہ قوانین کی تشریح کا معاملہ زیر غور آئے گا۔