Wednesday, September 02, 2026 | 18 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی: ووٹر لسٹ کی بڑی جانچ، 33 لاکھ ووٹروں کو مل سکتا ہے نوٹس

دہلی: ووٹر لسٹ کی بڑی جانچ، 33 لاکھ ووٹروں کو مل سکتا ہے نوٹس

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

دہلی: ووٹر لسٹ کی بڑی جانچ، 33 لاکھ ووٹروں کو مل سکتا ہے نوٹس
دہلی میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن، یعنی ایس آئی آر، کے تحت انتخابی فہرست کی جانچ کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ انتخابی فہرست کے مسودے کی تیاری کے بعد تقریباً 33 لاکھ ووٹروں کی تفصیلات میں کسی نہ کسی قسم کا تضاد یا عدم مطابقت پائی گئی ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق، ایسے ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جائیں گے اور ان سے اپنی تفصیلات واضح کرنے یا ضروری دستاویزات جمع کرانے کو کہا جائے گا۔
 
حکام کے مطابق تقریباً 19 لاکھ ووٹروں کو اعداد و شمار میں تضاد کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ہے۔ ان معاملات میں ووٹروں کی موجودہ تفصیلات اور انتخابی ڈیٹا بیس میں درج معلومات کے درمیان فرق پایا گیا ہے۔ بڑی تعداد میں ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جہاں موجودہ انتخابی فہرست اور 2002 کی ووٹر لسٹ کے درمیان ناموں کے ہجے (Spelling) میں فرق ہے۔ ایسے ووٹروں سے اپنے نام اور دیگر تفصیلات کی درستگی ثابت کرنے کے لیے دستاویزات طلب کیے جا سکتے ہیں۔جانچ کے دوران خاندان سے متعلق معلومات میں بھی بعض غیر معمولی تضادات سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ووٹر اور والدین کے درمیان عمر کا فرق 15 سال سے کم یا 50 سال سے زیادہ ہونے، یا بہن بھائیوں کے درمیان عمر کا فرق نو ماہ سے کم ہونے والے معاملات بھی جانچ کے دائرے میں آئے ہیں۔
 
دوسری جانب تقریباً 14 لاکھ ووٹروں کے نام 2002 کی انتخابی فہرست سے منسلک نہیں ہو سکے۔ ایسے افراد کو اپنی ووٹر حیثیت اور اہلیت ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ دستاویزات پیش کرنا پڑ سکتے ہیں۔حکام نے واضح کیا ہے کہ نوٹس ملنے کا یہ مطلب نہیں کہ کسی ووٹر کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ فرد کو اپنا موقف پیش کرنے اور ضروری دستاویزات جمع کرانے کا پورا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد اس کے معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔
 
ایس آئی آر کے تحت جاری ڈرافٹ انتخابی فہرست میں مجموعی طور پر 97 لاکھ 53 ہزار 577 ووٹروں کے نام شامل ہیں۔ یہ تعداد 30 جون تک دہلی کی ووٹر لسٹ میں موجود ایک کروڑ 45 لاکھ 10 ہزار 299 ناموں کے مقابلے میں تقریباً 33 فیصد کم ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اس پورے عمل کا مقصد انتخابی فہرست کو زیادہ درست اور شفاف بنانا ہے، تاکہ اہل ووٹروں کے نام برقرار رہیں اور غلط، نااہل یا غیر درست اندراجات کی نشاندہی کی جا سکے۔
 
اگر کسی ووٹر کی عمر، تاریخ پیدائش یا شہریت سے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر اضافی دستاویزات طلب کر سکتا ہے۔ معاون ثبوت کے طور پر پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، تعلیمی سرٹیفکیٹ، مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ، سرکاری دستاویزات، خاندانی رجسٹر اور زمین یا مکان سے متعلق کاغذات پیش کیے جا سکتے ہیں۔ایس آئی آر کے عمل کے تحت دعوے اور اعتراضات 30 ستمبر تک داخل کیے جا سکیں گے، جبکہ نوٹس جاری کرنے اور معاملات کو نمٹانے کا عمل 29 اکتوبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ دہلی کی حتمی انتخابی فہرست 4 نومبر کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔