مغربی بنگال میں دھیریندر کرشنا شاستری کے ایک بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ باگیشور دھام کے سربراہ نے ہاوڑہ میں منعقدہ ’ہنومنت کتھا‘ پروگرام کے دوران بنگال کے ہندوؤں سے نوراتری کی رسومات اور مذہبی روایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خاص طور پر درگا پوجا کے پنڈالوں اور دیوی کی مورتیوں کے قریب نان ویجیٹیرین کھانا پکانے یا فروخت کرنے سے گریز کرنے کی بات کہی۔ دھیریندر کرشنا شاستری نے کہا کہ درگا پوجا پنڈالوں کے پیچھے یا مورتیوں کے آس پاس نان ویجیٹیرین کھانا پکانا اور فروخت کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے لوگوں سے نوراتری کے دوران مذہبی روایات کی پابندی کرنے کی اپیل بھی کی۔ شاستری نے ایسے لوگوں کے سماجی بائیکاٹ کی بات بھی کہی جو مذہبی مقامات کے قریب اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔
دھیریندر شاستری کے بیان پر ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل اے مدن مترا نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق کھانے پینے کا فیصلہ خود کریں گے۔مدن مترا نے کہا، ’’یہ بنگال ہے اور یہاں بنگالی وہی کریں گے جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود گوشت اور مچھلی کھائیں گے، البتہ پوجا پنڈال کے اندر نہیں بلکہ پنڈال کے باہر کھائیں گے۔
دریں اثنا، مغربی بنگال کے رہنما دلیپ گھوش نے اس معاملے پر مختلف رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دھیریندر کرشنا شاستری نے ایک مخصوص معاملے پر اپنی رائے ظاہر کی ہے اور جو لوگ ان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں، وہ اسے اختیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ دلیپ گھوش نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں لوگ سبزی خور ہیں، جبکہ بنگال میں نان ویجیٹیرین کھانے کی بھی ایک روایتی ثقافت رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص کی اپنی پسند اور ترجیح ہوتی ہے اور اسے اپنی پسند کے مطابق کھانے کی آزادی حاصل ہے۔ اس بیان بازی کے بعد بنگال میں مذہبی روایات، کھانے کی آزادی اور درگا پوجا کے دوران نان ویجیٹیرین کھانے کی فروخت کو لے کر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ معاملے پر مختلف سیاسی رہنما اپنے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں۔