امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران کے کئی شہر تباہ ہو چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ،جبکہ سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس بحران کے درمیان، ہندوستان کے جموں و کشمیر کے علاقے میں لوگوں نے ایران کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ نوجوانوں ،بوڑھوں سے لے کر چھوٹے بچوں تک سبھی تہران کی مدد کے لیے سر گرم ہیں۔
لوگ ایران کے لیے پیسے اور سامان اکٹھا کرنے کے لیے اپنے بکرے، زیورات اور یہاں تک کہ گھریلو برتن بھی بیچ رہے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی ایران کی مدد کے لیے بے تابی سے اپنے گللکوں کو توڑ کر اپنی تمام جمع شدہ بچت ایرانی سفارت خانے کے حوالے کر دی۔ ہندوستانی عوام کی سخاوت سے متاثر ہو کر ایران نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ہفتے کے روز، ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے نے ان ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایران کی تعمیر نو کے لیے رقم اور زیورات عطیہ کیے، ان کی 'ہمدردی اور انسانیت' کی تعریف کی۔ سفارتخانے نے کہا کہ وہ ہمیشہ ہندوستان کی ہمدردی کی قدر کریں گے۔ ہم آپ کی ہمدردی اور انسانیت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ شکریہ، ہندوستان! سفارت خانے نے تبصرہ کیا. انہوں نے مزید کہا، تشکر سے بھرے دلوں کے ساتھ، ہم ایران کے عوام کے ساتھ انسانی ہمدردی اور دلی اتحاد دونوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہونے پر کشمیر کے سخی لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس سخاوت کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ شکریہ، ہندوستان۔
بتا دیں کہ جموں وکشمیر کے مختلف مقامات پر ایران کیلئے فنڈز جمع کئے جارہے ہیں۔ سونے کے زیورات، تانبے اور پیتل کے برتن کے علاوہ کرنسی نوٹ جموں و کشمیر کے پتن اور مگن علاقوں کے مقامی باشندوں کی طرف سے جنگ زدہ ایران میں لوگوں کیلئے امدادی فنڈ کے حصے کے طور پر عطیہ کردہ بہت سی اشیاء میں شامل ہیں۔مقامی لوگوں میں سے ایک نے اپنی موٹرسائیکل عطیہ کی۔
اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ایران کے لوگوں کو بھیجی جائے گی۔ اسی درمیان کارگل میں ایک شخص نے اپنی آلٹو کار عطیہ کر دی تاکہ ایران کی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ میں مدد کی جا سکے۔