Sunday, May 24, 2026 | 06 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • حمل کے دوران ذیابیطس: وجوہات، علامات اورعلاج

حمل کے دوران ذیابیطس: وجوہات، علامات اورعلاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 23, 2026 IST

حمل کے دوران ذیابیطس: وجوہات، علامات اورعلاج
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں آج حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس یعنی Gestational Diabetes کے موضوع پر خصوصی گفتگو پیش کی گئی۔ پروگرام میں معروف ماہر ڈاکٹر Dr. Rizwana Akbar Attar نے اس بیماری کی وجوہات، علامات، احتیاطی تدابیر اور علاج کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر رضوانہ اکبر عطار نے بتایا کہ Gestational Diabetes ایسی کیفیت ہے جو دورانِ حمل بعض خواتین میں پیدا ہوتی ہے۔ اس میں جسم میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے کیونکہ حمل کے دوران بننے والے ہارمونز انسولین کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ عموماً یہ مسئلہ حمل کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں سامنے آتا ہے اور اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو ماں اور بچے دونوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی عام وجوہات میں موٹاپا، خاندانی تاریخ، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور پہلے حمل میں ذیابیطس کی شکایت شامل ہیں۔ بعض خواتین میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، تاہم زیادہ پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، تھکن محسوس ہونا اور دھندلا دکھائی دینا اس کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔
 
ڈاکٹر رضوانہ کے مطابق حمل کے دوران باقاعدہ شوگر ٹیسٹ انتہائی ضروری ہے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ متوازن غذا، ہلکی ورزش، وزن پر کنٹرول اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنے سے زیادہ تر خواتین اس بیماری کو قابو میں رکھ سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں انسولین یا ادویات کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
 
ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر Gestational Diabetes کا علاج نہ کیا جائے تو بچے کا وزن غیر معمولی طور پر بڑھ سکتا ہے، قبل از وقت پیدائش، بلڈ پریشر اور مستقبل میں ماں کو مستقل ذیابیطس ہونے کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
 
پروگرام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حاملہ خواتین اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں، باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کروائیں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے حمل کے دوران ذیابیطس پر کامیابی سے قابو پایا جا سکتا ہے اور ماں و بچے دونوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
 

قارئین اس موضوع پر آپ ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں