چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اجیت جوگی کے بیٹے اور جنتا کانگریس کے لیڈر امیت جوگی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ سزا جگی قتل معاملہ میں سنائی ہے۔ہائی کورٹ نے انہیں 7 دن کے اندر سرنڈر کرنے کے ہدایات دیے ہیں۔ چیف جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس اروند کمار ورما کی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔اسی مقدمے میں امیت جوگی نے سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
4 جون 2003 کو این سی پی لیڈر رام اوتار جگی کا قتل ہوا تھا، جس نے اس وقت صوبے کی سیاست میں بہت سنسنی پھیلا دی تھی۔اس مشہور مقدمے میں 2007 میں نچلی عدالت نے 28 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ امیت جوگی کو ثبوتوں کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بری کر دیا گیا تھا۔بعد میں جگی کے بیٹے نے اس فیصلے کو چیلنج کیا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور وہاں سے سماعت کے لیے اسے واپس ہائی کورٹ بھیج دیا گیا۔
امیت جوگی کا دعویٰ:
اس سے پہلے 2 اپریل کو جوگی نے سوشل میڈیا سائٹ 'ایکس' پر ایک ویڈیو پوسٹ کر کے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سننے کا موقع نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا:آج ہائی کورٹ نے میرے خلاف CBI کی اپیل کو صرف 40 منٹ میں قبول کر لیا ،مجھے سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر۔ مجھے افسوس ہے کہ ایک شخص جسے عدالت نے پہلے بری کر دیا تھا اب اسے اپنا مقدمہ پیش کرنے کا ایک بھی موقع فراہم کیے بغیر مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بے مثال ہے۔
انہوں نے کہا تھا:عدالت نے مجھے 3 ہفتوں کے اندر سرنڈر کرنے کا وقت دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے ساتھ سنگین ناانصافی ہوئی ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ سپریم کورٹ سے مجھے انصاف ضرور ملے گا۔ میں عدالتی نظام پر مکمل اعتماد رکھتا ہوں۔ میں مکمل سکون اور صبر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوں۔ سچ کی فتح ضرور ہوگی۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا کریں اور اپنا آشیرواد بنائے رکھیں۔