• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بھرت تیواری کا انکاؤنٹر فرضی تھا؟ سمراٹ حکومت پر اٹھے بڑے سوال

بھرت تیواری کا انکاؤنٹر فرضی تھا؟ سمراٹ حکومت پر اٹھے بڑے سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 13, 2026 IST

بھرت تیواری کا انکاؤنٹر فرضی تھا؟ سمراٹ حکومت پر اٹھے بڑے سوال
بہار کی سمراٹ حکومت نے بھرت تیواری کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے اور متاثرہ خاندان کو مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ جمعرات، 13 اگست 2026 کو سامنے آیا۔ اعلان کے بعد آر جے ڈی اور کانگریس نے حکومت سے کئی اہم سوالات پوچھتے ہوئے معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان اسیت ناتھ تیواری نے کہا کہ بھرت تیواری کا خاندان معاوضے، سرکاری ملازمت اور انصاف کا حقدار ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے معاملے کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
کس کے حکم پر بھرت تیواری کو گولی ماری گئی؟
 
کانگریس ترجمان نے سوال اٹھایا کہ اتنی طویل تحقیقات کے باوجود حکومت اب تک یہ واضح کیوں نہیں کر سکی کہ بھرت تیواری کو گولی مارنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ مبینہ کارروائی کی منصوبہ بندی کس افسر نے کی اور ایس ٹی ایف کو جائے وقوعہ پر جانے کی ہدایت کس کی جانب سے دی گئی تھی۔ ان کے مطابق، حکومت کو اصل حقائق عوام کے سامنے لانے ہوں گے۔‘‘ کانگریس نے واضح کیا کہ صرف مالی امداد یا ملازمت کا اعلان کافی نہیں ہوگا، بلکہ خاندان کو مکمل انصاف بھی ملنا چاہیے۔
 
آر جے ڈی نے افسران کے کردار پر اٹھائے سوال
 
آر جے ڈی ترجمان شکتی یادو نے بھی حکومت کے اعلان پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے ایک فرد کو ملازمت دینے کا فیصلہ ایک عبوری رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا تحقیقات اب ان افسران تک بھی پہنچیں گی جن پر کارروائی میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
 
یادو نے پوچھا کہ اگر تحقیقات میں کسی افسر کا کردار ثابت ہوتا ہے تو کیا اس کے خلاف دفعہ 302، یعنی قتل کے تحت کارروائی کی جائے گی؟ انہوں نے بہار میں مبینہ فرضی انکاؤنٹرز کے دیگر واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا۔
 
آر جے ڈی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خاندان کے لیے ملازمت اور مالی امداد کا اعلان حکومت کی جانب سے دباؤ میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اصل واقعے اور ذمہ دار افراد کے بارے میں مکمل حقیقت سامنے لائی جائے۔
 
بی جے پی نے فیصلے کا خیرمقدم کیا
 
دوسری جانب، بہار بی جے پی کے ترجمان نیرج کمار نے حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے واقعے کے بعد عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور تحقیقات کے دوران جو بھی حقائق سامنے آئیں گے، ان کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
 
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ نہ کسی بے گناہ کو پھنسایا جائے گا اور نہ کسی قصوروار کو بچایا جائے گا۔ ان کے مطابق، پورے معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے اور حکومت کا مقصد حقیقت کو عوام کے سامنے لانا ہے۔
 
اس معاملے پر اب اصل توجہ تحقیقات کے نتائج پر ہے۔ کیا مالی امداد اور سرکاری ملازمت کے اعلان کے ساتھ بھرت تیواری کے خاندان کو مکمل انصاف بھی ملے گا، اور اگر کسی افسر کا کردار ثابت ہوا تو کیا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب کا اپوزیشن اور متاثرہ خاندان انتظار کر رہے ہیں۔