منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Why Are Young Indians Getting Diabetes, BP & Cholesterol?" کے اہم موضوع پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر بانو پریہ، سینئر کنسلٹنٹ، جنرل میڈیسن، گرونانک کیئر ہاسپٹلس، مشیرآباد، حیدرآباد نے نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مسئلے، اس کی وجوہات اور بچاؤ کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر بانو پریہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو زیادہ تر عمر رسیدہ افراد سے جوڑا جاتا تھا، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ تیس اور چالیس سال کی عمر میں بھی ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں آنے والی کئی تبدیلیاں ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسلسل بیٹھے رہنا، ورزش کی کمی، فاسٹ فوڈ اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال، میٹھے مشروبات، بے ترتیب کھانے کے اوقات، وزن میں اضافہ اور نیند کی کمی نوجوانوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ کام کا دباؤ اور مسلسل ذہنی تناؤ بھی مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ڈاکٹر بانو پریہ نے خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ان بیماریوں کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت نظر نہیں آتی۔ ایک نوجوان بظاہر بالکل صحت مند دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کا بلڈ پریشر یا خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی سطح معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اسی لیے صرف ظاہری صحت کو بنیاد بنا کر مطمئن ہو جانا مناسب نہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وقتاً فوقتاً بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور لپڈ پروفائل جیسے بنیادی صحت کے ٹیسٹ کرواتے رہیں، خاص طور پر اگر خاندان میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماری کی تاریخ موجود ہو۔ بروقت اسکریننگ سے مسئلے کا ابتدائی مرحلے میں ہی پتا چل سکتا ہے۔
طرزِ زندگی میں تبدیلی کو اہم قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ صحت مند رہنے کے لیے روزمرہ معمول میں بہت بڑی تبدیلی ضروری نہیں۔ باقاعدہ چہل قدمی یا ورزش، گھر کا متوازن کھانا، سبزیوں اور پھلوں کا مناسب استعمال، نمک اور اضافی چینی میں کمی، مناسب نیند اور صحت مند وزن برقرار رکھنا نمایاں فرق پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو سگریٹ اور تمباکو کی مصنوعات سے دور رہنے کا بھی مشورہ دیا۔
ڈاکٹر بانو پریہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو ذیابیطس، بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کی تشخیص ہو جائے تو صرف علامات نہ ہونے کی وجہ سے دوا بند نہیں کرنی چاہیے۔ علاج میں کسی بھی تبدیلی کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ نوجوانی میں صحت کو نظر انداز کرنے کا اثر آنے والے برسوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ اس لیے بیماری کا انتظار کرنے کے بجائے احتیاط کو معمول بنانا زیادہ بہتر ہے۔ صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور باقاعدہ چیک اپ نوجوان نسل کو کئی سنگین بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
قارئین ڈاکٹر بانو پریہ، سینئر کنسلٹنٹ، جنرل میڈیسن، گرونانک کیئر ہاسپٹلس،حیدرآبا، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور ہیلتھ سے جڑے کسی بھی معاملے پر، دیگر ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔