پی سی گھوش کمیشن کی قسمت پر سسپنس برقرار ہے، جسے حکومت نے کالیشورم پراجکٹ کی بے قاعدگیوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا، جو تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں ایک گرما گرم موضوع بن گیا ہے۔ کورٹ نے کمیشن کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مزید کچھ وقت لگا دیا ہے۔ آج اس معاملے پر دلائل سننے والے چیف جسٹس کی بنچ نے حتمی فیصلہ رواں ماہ کی 22 تاریخ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
یہ تنازع مارچ 2024 میں حکومت کے جی او نمبر 6 سے شروع ہوا تھا۔ حکومت نے یہ کمیشن بنایا تھا تاکہ میڈی گڈا اور انارام جیسے بیراجوں کی ناکامی کے پیچھے اصل وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ تاہم، بی آر ایس سربراہ کے سی آر، سابق وزیر ہریش راؤ اور سمیتا سبھروال جیسے اہم عہدیداروں نے اعتراض اٹھاتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ انہوں نے اپنی درخواستوں میں کہا کہ تحقیقاتی عمل قواعد کے خلاف چلایا جا رہا ہے اور ان کے دلائل سنے بغیر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے اپنے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا۔ اس نے واضح کیا کہ اس کا مقصد اس منصوبے کے بارے میں سچائی سے پردہ اٹھانا ہے جس میں عوامی پیسے کا غلط استعمال کیا گیا، اور اس میں کوئی سیاسی تعصب نہیں تھا۔ اس نے عدالت کو وضاحت کی کہ ریکارڈ کی بنیاد پر پہلے ہی تحقیقات کی جا چکی ہیں اور سب کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں پارٹیوں کے درمیان بحث ختم ہو چکی ہے لیکن اس ماہ کی 22 تاریخ تلنگانہ کی سیاست میں بہت اہم دن ہو گا کیونکہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔