Wednesday, April 08, 2026 | 19 شوال 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بچوں میں پوشیدہ ای این ٹی مسائل: اور والدین کی ذمہ داریاں

بچوں میں پوشیدہ ای این ٹی مسائل: اور والدین کی ذمہ داریاں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 08, 2026 IST

بچوں میں پوشیدہ ای این ٹی مسائل: اور والدین کی ذمہ داریاں
بچوں کی صحت کے حوالے سے اکثر والدین ظاہری علامات پر توجہ دیتے ہیں، مگر کئی ایسی پوشیدہ ای این ٹی (کان، ناک اور گلا) بیماریاں ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔  منصف ٹی وی کے خصوصی ہیلتھ پروگرام ، ہیلتھ اور ہم ،میں ماہر ڈاکٹر  دپیکا پرکاش نے ان ہی مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور والدین کو اہم رہنمائی فراہم کی۔

 عام مسئلہ منہ سے سانس لینا

دپیکا پرکاش، کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک ای این ٹی سرجن، MBBS، MS ENT (AIIMS)، DNB (گولڈ میڈلسٹ)، MNAMS، MRCS ENT (انگلینڈ)، عطاپور، حیدرآباد میں اپنی خدمات انجام  دے رہی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سب سے عام مسئلہ جو بچوں میں دیکھا جاتا ہے وہ ہے منہ سے سانس لینا (Mouth Breathing)۔ عام حالات میں اگر بچے کو نزلہ یا موسم کی تبدیلی ہو تو عارضی طور پر منہ سے سانس لینا معمول کی بات ہے، لیکن اگر یہ عادت طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ ناک کی بندش، الرجی یا ایڈینوئڈ (Adenoid) جیسے مسائل کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔

 ناک بند ہونے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے

ڈاکٹر کے مطابق ناک کا بند ہونا صرف سانس لینے میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ یہ بچے کی نیند، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے بچے رات کو خراٹے لیتے ہیں، بار بار جاگتے ہیں اور صبح تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کی پڑھائی، توجہ اور کھیل کود کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔

 منہ سے سانس لینے سے دیگر اثرات 

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ طویل عرصے تک منہ سے سانس لینے سے بچے کے چہرے کی ساخت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے چہرہ لمبا ہو سکتا ہے، دانت ٹیڑھے ہو سکتے ہیں اور مستقل جسمانی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح یہ مسئلہ سماعت اور بولنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ ناک اور کان ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ علامات پر خاص نظر رکھیں، جیسے:

 
  • بچے کا مسلسل منہ کھلا رکھنا
  • خراٹے لینا
  • بار بار نزلہ، کھانسی یا کان درد
  • کھانے میں دلچسپی کم ہونا
  • نیند کا متاثر ہونا
 
اگر یہ علامات ایک ہفتے سے زیادہ برقرار رہیں تو فوری طور پر ای این ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
 
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ مسئلہ اس کی وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر الرجی ہو تو ادویات اور ناک کے اسپرے مؤثر ثابت ہوتے ہیں، جبکہ ایڈینوئڈ یا ساختی مسائل کی صورت میں بعض اوقات سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ سرجری محفوظ اور مؤثر ہو چکی ہے۔
 

گھریلو احتیاطی تدابیر بھی نہایت اہم ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ:

  • گھر کو صاف اور گرد سے پاک رکھیں
  • بچوں کو دھول، دھوئیں اور ٹھنڈی اشیاء سے بچائیں
  • بھاپ (Steam) کا استعمال کریں
  • مناسب ہوا داری (Ventilation) کو یقینی بنائیں
 
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج سے نہ صرف بیماری کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے بلکہ بچے کی مجموعی نشوونما کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔آخر میں والدین کے لیے یہی پیغام ہے کہ بچوں کی چھوٹی علامات کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ صحت مند بچہ ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ قارئین آپ  ڈاکٹر  دپیکا  پرکاش کی  مکمل بات چیت یہاں  دیکھ سکتےہیں۔