Wednesday, April 08, 2026 | 19 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • بنگال میں مسلمانوں کے لاکھوں ووٹ عدالتی جانچ کے دائرے میں۔ اسد الدین اویسی برہم

بنگال میں مسلمانوں کے لاکھوں ووٹ عدالتی جانچ کے دائرے میں۔ اسد الدین اویسی برہم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 08, 2026 IST

بنگال میں مسلمانوں کے لاکھوں ووٹ عدالتی جانچ کے دائرے میں۔ اسد الدین اویسی برہم
 کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے جے آئی) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹراسد الدین اویسی نے مغربی بنگال کے مختلف حلقوں میں عدالتی جانچ کے لیے فہرست میں بڑی تعداد میں مسلم ناموں کو شامل کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شمشیر گنج حلقہ میں 55 فیصد، موٹا باڑی میں 54.2 فیصد، مانک چک میں 50 فیصد اور برہم پور میں 61.6 فیصد مسلمانوں کو نظرثانی کی فہرست میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

 لاکھوں مسلمانوں کے حق رائے دہی پرسوالیہ نشان لگایا 

صدر مجلس  نے برہمی کا اظہار کیا کہ ریاست کے مختلف حلقوں میں لاکھوں مسلمانوں کے حق رائے دہی پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال ہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ 'فارنرز ٹریبونل' ان کے حق رائے دہی کے بارے میں کب فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا وہ ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل 'فارنرز ٹربیونل' کے اراکین تشکیل دیے جائیں اور جلد فیصلہ کیا جائے۔انہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ووٹر پریشان ہیں کہ ان کے نام گم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات سے قبل فیصلہ کر کے سب کو ووٹ کا حق دیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کا حق آئین کی طرف سے فراہم کردہ حق ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی پراویسی کا بیان 

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی  نے کہا کہ  امریکہ ایران جنگ بندی میں ہمارے پڑوسی ملک نے جو کردار ادا کیا وہ ہمارا ہونا چاہئے تھا۔ بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ لبنان میں جنگ بندی کرائے اور کھلے عام اعلان کرے کہ اسرائیل کے اقدامات غلط ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے بی جے پی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی۔انہوں نے کہا ہے کہ فلموں کے ذریعے عوام کو خوش رکھنا خارجہ پالیسی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی تین گھنٹے کا مذاق نہیں ہے۔اور ایسے سنجیدہ معاملات کو ہلکے میں لینا درست نہیں۔

 لبنان میں بھی جنگ بندی کی کوشش کریں 

صدر مجلس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لبنان میں بھی جنگ بندی کے لیے کوشش کی جائے۔اور اسرائیل کی کاروائیوں پر کھل کر  مذمت کی جائے۔ اویسی نے کہا کہ اگر ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کی گئی تو دیگر اہم قومی مسائل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔