ماہ محرم الحرام اور شہادت حضرت امام حسینؓ کے موقع پرملک بھر میں یوم عاشورہ کا اہتمام کیا گیا۔ حیدرآباد میں تاریخی بی بی کے علم کا جلوس انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالا گیا ۔ یہ جلوس قدیم شہرکےعلاقہ دبیرپورہ سے بی بی کے الاوہ سے روایتی ہاتھی کی سواری پرنکالا گیا۔ جس میں ہزاروں عزاداروں اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ جلوس دیبر پورہ سےنکل کر شیخ فیض کی کمان، یاقوت پورہ، اعتبار چوک سے ہوتے ہوئے کوٹلہ علیجاہ اسکے تاریخی چار مینار پہنچا۔
حیدرآباد پولیس کمشنر نے اپنی عقیدت کا کیا اظہار
تاریخی چارمینار پرحیدرآباد پولیس کمشنر سی وی سجنار نے بی بی کےعلم پر ڈھٹی پیش کر کے عقیدت کا اظہار کیا۔ اس موقع پرڈی سی پی چارمینار زون کرن کھرے، جوائنٹ کمشنر ٹریفک جوئیل ڈیوس اور اے سی پی چارمینار چندر شیکھر بھی موجود تھے۔اس موقع پر پولیس کمشنر سی وی سجنار نے کہا کہ محرم کے تمام جلوسوں کے پُرامن انعقاد کے لیے پولیس کی جانب سے جامع سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور عوام سے بھی امن، بھائی چارے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی۔
جلوس چارمینار اور گلزار حوض ، پنجہ شاہ، میرچوک، میرعالم منڈی، پرانی حویلی، دارلشفا، املی بن بد ڈپو، کالی قبر سے ہوتا ہوا چادر گھاٹ مسجد الہی پر اختتام پذیر ہوا۔ تقریباً 2000 پولیس اہلکار اس موقع پر سکیورٹی کی نگرانی کے لیے تعینات کیے گئے۔جلوس کے راستے میں عزاداروں نے نوحہ خوانی، ماتم اور دیگر مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے زائرین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کئی عقیدت مندوں ماتم کیا۔
وزیرمحمد اظہر الدین نے پیش کی ڈھٹی
تلنگانہ کےوزیر برائے اقلیتی بہبود اور پبلک انٹرپرائزز محمد اظہرالدین نے بی بی کےعلم محرم کے تاریخی جلوس میں شرکت کی اور حیدرآباد کی صدیوں پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے علم کو ڈھٹی پیش کی ۔ ریاستی وزیر کے ساتھ ٹی پی سی سی جنرل سکریٹری محمد اسد الدین، تلنگانہ وقف بورڈ کے چیرمین عظمت اللہ حسینی، ممتاز مذہبی اسکالرز، کمیونٹی قائدین اور عوامی نمائندے موجود تھے۔
وزیر محمد اظہرالدین نے کہا کہ محرم قربانی، سچائی، انصاف، صبر اور انسانیت کی علامت ہے۔حضرت امام حسینؓ کا لازوال پیغام تمام برادریوں کے لوگوں کو انصاف کو برقرار رکھنے اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے عوام کے لیے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔
تاریخی بی بی کا علم کا جلوس، حیدرآباد کے سب سے قدیم اور سب سے زیادہ قابل احترام محرم جلوسوں میں سے ایک، بی بی کا الاوہ ، دبیر پورہ سے شروع ہوا، جس میں ہزاروں عقیدت مندوں اور عزاداروں نے گہری عقیدت اور احترام کے ساتھ شرکت کی۔ روایتی طور پر سجے ہوئے ہاتھی پر سوار علم نوحے اور دعاؤں کے درمیان اپنے تاریخی راستے پر روانہ ہوا۔وزیر نے جلوس کے پرامن اور ہموار انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے منتظمین، پولیس اور مختلف سرکاری محکموں کی کوششوں کو سراہا۔
بی بی کے علم کی تاریخ
بی بی کا عالم کا ادارہ گولکنڈہ کے شیعہ قطب شاہی حکمرانوں کے تحت تشکیل دیا گیا تھا، لیکن یہ حیدرآباد کی مسلسل آصف جاہی سرپرستی، شاہی اوصاف، رسمی شرکت اور ریاست کی عوامی رسم زندگی میں شامل ہونے کے ذریعے محرم کی معروف عوامی علامت بن گیا۔نظام کو قطب شاہی سے بہت سے ادارے وراثت میں ملے جن میں سے ایک بی بی کا علم تھا۔ تاہم، جس چیز نے بی بی کا علم کو ایک خاندانی شیعہ آثار سے حیدرآباد کے سب سے زیادہ نظر آنے والے محرم میں تبدیل کیا وہ آصف جاہی سرپرستی تھی۔
موجودہ ڈھانچے پر 1784ء کی ایک تحریر (کتبہ) موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے نظام دور میں ایک اہم مذہبی اور عزاداری مرکز کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ بعد کے تمام نظاموں نے اس علم کو قیمتی جواہرات اور نذرانوں سے مزین کیا۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق، خاندانِ نظام کے افراد نے بھی اس علم کے لیے قیمتی پتھر اور زیورات عطیہ کیے، جبکہ ساتویں نظام، میر عثمان علی خان نے بھی نہایت قیمتی جواہرات پیش کیے، جو آج بھی اس علم سے منسوب سمجھے جاتے ہیں۔