Wednesday, May 06, 2026 | 18 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • حیدرآباد: چالیس افراد نے خاتون پولیس افسرکوکیسےکیا ہراساں؟

حیدرآباد: چالیس افراد نے خاتون پولیس افسرکوکیسےکیا ہراساں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 06, 2026 IST

حیدرآباد: چالیس افراد نے خاتون پولیس افسرکوکیسےکیا ہراساں؟
تلنگانہ کے ملکاجگری میں تعینات نئی پولیس کمشنربی سوماتھی( B. Sumathi) نے خواتین کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے حیدرآباد کے علاقے دِلسکھ نگر( Dilsukhnagar )میں آدھی رات کے بعد خود کو ایک عام خاتون کے طور پر پیش کرتے ہوئے بس اسٹینڈ پر تنہا کھڑی ہوئیں۔

 خاتون  پولیس کمشنر کوکیا ہراساں؟

پولیس کے مطابق، چند ہی منٹوں میں تقریباً 40 افراد وہاں جمع ہوگئے اور انہیں ہراساں کرنا شروع کردیا۔ ان میں سے کئی افراد نشے کی حالت میں تھے اور نازیبا تبصرے کرتے ہوئے قریب آنے کی کوشش کر رہے تھے۔قریب ہی تعینات پولیس ٹیموں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔

 خواتین کی سیکوریٹی کا لیا جائزہ 

اس خفیہ آپریشن نے خاص طور پر رات کے اوقات میں عوامی مقامات پرخواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو سخت پیغام دینا تھا۔ انھوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ رات کےوقت مجبوری میں باہر نکلنے والی خواتین شہر میں کتنی  محفوظ ہیں۔ اور ان کی سیکوریٹی کےلئے پولیس کی جانب سے کیا اقدامات کرنا چاہئے۔ بتایا جا رہا ہےکہ خاتون  پولیس افسر نے رات 12 بجے سے 3 بجے تک بس اسٹاپ پر کھڑی رہیں۔ اس آپریشن کا مقصد خواتین  میں سیکوریٹی سے متعلق الرٹ کرنا اور احساس دلانا تھاکہ پولیس  رات کےوقت بھی ان کے ساتھ ہے۔

 ملکاجگری کی پہلی خاتون پولیس کمشنر

واضح رہے کہ B. Sumathi حال ہی میں ملکاجگری کی پہلی خاتون پولیس کمشنر مقرر ہوئی ہیں اور عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتے بعد ہی انہوں نے یہ اہم قدم اٹھایا۔وہ 2006 بیچ کی آئی پی ایس افسر ہیں اور اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے آپریشن انجام دے چکی ہیں۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کئی اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
 
کمشنر بننے سے قبل وہ اسپیشل انٹیلیجنس بیورو میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر فائز تھیں اور ماؤ نوازوں کے سرینڈر میں اہم کردار ادا کرنے پر سراہا گیا تھا۔