• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پاکستانی سابق وزیر قانون کا بڑا دعویٰ، بھارتی ڈیم جنگ میں محفوظ نہیں؟

پاکستانی سابق وزیر قانون کا بڑا دعویٰ، بھارتی ڈیم جنگ میں محفوظ نہیں؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 26, 2026 IST

پاکستانی سابق وزیر قانون کا بڑا دعویٰ، بھارتی ڈیم جنگ میں محفوظ نہیں؟
بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازع ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے سندھ آبی معاہدہ معطل کرتے ہوئے دریائے چناب پر کئی نئے ڈیم منصوبوں پر کام تیز کر دیا، جس پر پاکستان مسلسل اعتراض کر رہا ہے۔
 
اب پاکستان کے سابق نگراں وزیر قانون اور سپریم کورٹ کے وکیل احمر بلال صوفی نے ایک نیا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت زیرِ تعمیر بھارتی ڈیم مکمل طور پر فوجی حملوں سے محفوظ نہیں سمجھے جا سکتے۔
 
پاکستانی میڈیا  میں شائع اپنے مضمون میں صوفی نے کہا کہ عام طور پر جنگ کے دوران ڈیموں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے، لیکن اگر کسی تنصیب کو فوجی مقاصد سے جوڑا جائے یا اسے دوسرے ملک کے خلاف استعمال کیا جائے تو اس تحفظ پر سوال اٹھ سکتا ہے۔
 
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت دریائے چناب پر بجلی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، اور پاکستان ان منصوبوں سے متعلق بین الاقوامی قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے سکتا ہے۔
 
صوفی نے 1949 کے جنیوا کنونشن کے ایڈیشنل پروٹوکول ون کے آرٹیکل 56 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ڈھانچہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو تو اس کے قانونی تحفظ کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق آبی سرنگیں بھی اس بحث کا حصہ بن سکتی ہیں۔
 
انہوں نے بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پاٹل کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ "پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا"، اور کہا کہ پاکستان اسے اپنے مؤقف کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
 
دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں بین الاقوامی قوانین اور قومی مفادات کے مطابق آبی منصوبے تیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور مستقبل میں سفارتی اور قانونی سطح پر یہ تنازع مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
 
فی الحال، احمر بلال صوفی کے یہ بیانات ان کی قانونی رائے ہیں، جبکہ اس حوالے سے کسی بین الاقوامی عدالت یا ادارے کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس معاملے سے جڑی ہر اہم اپڈیٹ ہم آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔