نئی دہلی میں ہندوستانی حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر سکیورٹی کے لیے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا دی ہیں۔ ہائی کمیشن کے اردگرد موجود ٹریفک کے بولارڈز اور دوسری رکاوٹیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ یہ کاروائی پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر موجود حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کے تین دن بعد ہوئی ہے۔ اس لیے اسے دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے اقدام کے جواب میں کیا گیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلے ہی سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں اور گزشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تنازع بھی ہوا تھا۔ ایسے میں سفارتی عمارتوں کے باہر حفاظتی انتظامات میں یہ تبدیلی نئی توجہ کا باعث بنی ہے۔
امریکی سفیر کے دورہ کشمیر سے بڑھی کشیدگی
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پاکستان نے ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کے جموں و کشمیر کے دورے اور ان کے وہاں دیے گئے بیان پر اعتراض کیا۔ سری نگر کے دورے کے دوران گور نے جموں و کشمیر کو ہندوستان کا اہم حصہ قرار دیا اور خطے کی خوبصورتی کی تعریف کی۔ انہوں نے ڈل جھیل میں شکارا کی سواری بھی کی۔ گور نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے لیے اپنی سفری ہدایات پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مرکز اور جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔
پاکستان نے امریکی سفارت کار کو طلب کیا
امریکی سفیر کے بیان کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کو طلب کیا اور ان کے ریمارکس پر سخت احتجاج کیا۔پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کوہندوستان کا حصہ قرار دینے والے بیان کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر کا یہ بیان کشمیر کے معاملے پر امریکہ کے پہلے مؤقف سے مختلف ہے۔
پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کا حوالہ بھی دیا
پاکستان نے اپنے احتجاج کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا بھی حوالہ دیا۔ اسلام آباد نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر اپنے عوامی بیانات کو اپنے سابقہ مؤقف کے مطابق رکھے۔
ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی برقرار
پاکستانی ہائی کمیشن اور ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر حفاظتی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کاروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پہلے ہی نازک مرحلے پر ہیں۔ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے سفارتی اور سیاسی اقدامات پر فوری ردعمل دے رہے ہیں۔ سفارتی احاطوں کے باہر حفاظتی انتظامات میں تبدیلی اور کشمیر سے متعلق بیانات نے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
رکاوٹیں صرف سکیورٹی کے لیے نہیں تھیں
تازہ رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں ہٹائی گئی چیزوں میں صرف حفاظتی بیریئر نہیں بلکہ ویزا سیکشن کے باہر لوگوں کی قطار سنبھالنے کے لیے لگائے گئے "queue-management barriers" بھی شامل تھے۔ حکام کے مطابق یہ ڈھانچے ہائی کمیشن کی منظور شدہ حدود سے باہر ایک لین میں بنے ہوئے تھے۔
پاکستان نے تین دن پہلے کیا کیا تھا؟
پاکستان نے اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر سکیورٹی بیریئرز اور پارکنگ پولز ہٹائے تھے۔ اس کے تین دن بعد دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر کاروائی ہوئی، اسی لیے اسے جوابی یا ٹیٹ فار ٹائٹ اقدام کہا جا رہا ہے۔
کشمیر والا معاملہ اس کاروائی سے براہِ راست جوڑا نہیں گیا
تازہ رپورٹوں کے مطابق امریکی سفیر سرجیو گور کے کشمیر سے متعلق بیان اور دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر کاروائی کا وقت ایک ہی ہے، لیکن ہندوستانی حکام نے باضابطہ طور پر دونوں واقعات کو آپس میں نہیں جوڑا ہے۔