Thursday, April 09, 2026 | 20 شوال 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید غصہ ظاہر کیا،آبنائے ہرمز دوبارہ بند

ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید غصہ ظاہر کیا،آبنائے ہرمز دوبارہ بند

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 09, 2026 IST

ایران نے جنگ بندی  کی خلاف ورزیوں  پر شدید غصہ ظاہر کیا،آبنائے ہرمز دوبارہ بند
امریکہ اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، جن میں 250 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اس پر ناراض ایران نےآبنائے ہرمز  سے جہازوں کی آمدورفت ایک بار پھر بند کر دی ہے اور امریکہ پر عدم اعتماد مزید گہرا ہونے کا اعلان کیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایسی صورتحال میں دو طرفہ جنگ بندی اور بات چیت مناسب نہیں ہے۔
 
بات چیت شروع ہونے سے پہلے 3 بڑی خلاف ورزیاں:
 
قالیباف نے بیان میں کہا کہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی 10 نکاتی تجویز کے 3 اہم نکات کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پر ایران کا تاریخی عدم اعتماد اس کے بار بار وعدوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور یہ پیٹرن ایک بار پھر دہرایا گیا ہے۔
 
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یاد دلایا کہ انہوں نے ایران کے 10 نکاتی تجویز کو "بات چیت کا مناسب بنیاد" قرار دیا تھا، لیکن اب اس کے 3 نکات توڑ دیے گئے ہیں۔
 
کون سی تین خلاف ورزیاں ہوئیں؟
 
1. لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ توڑا گیا ، اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے۔
 
2. ایرانی فضائی حدود میں ڈرون کی خلاف ورزی ، فارس صوبے کے لار شہر میں ایک جاسوسی ڈرون کو مار گرایا گیا، جو فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔
 
3. ایران کے جوہری افزودگی کے حق سے انکار ، جو 10 نکاتی فریم ورک کے 6ویں نکتے میں شامل تھا۔
 
آبنائےہرمز  پر پابندی:
 
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر 100 سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں 250 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ اس کے جواب میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے۔ اس پر غصے میں آ کر ایران نے ہرمز آبنائے کو دوبارہ بند کر دیا۔ ایک تیل کا ٹینکر 180 ڈگری موڑ لے کر خلیج فارس کی طرف واپس جا رہا ہے۔
 
نتن یاہو اور ٹرمپ کا بیان:
 
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی لبنان پر نافذ نہیں ہے، کیونکہ لبنان میں حزب اللہ فعال ہے۔وہیں صدر ٹرمپ نے بھی  PBS نیوز کو بتایا کہ لبنان کو اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
 
لیکن پاکستانی وزیر اعظم جنہوں نے جنگ بندی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا،کےپوسٹ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ اس جنگ  بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔