آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں آج 9 اپریل 2026 کو اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ آسام کی 126 سیٹوں پر اب تک 17 فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ دے رہے ہیں۔کانگریس کے سینئر لیڈر گورو گوگوئی اور وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بھی اپنا ووٹ ڈالا۔ اسی دوران AIUDF کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل نے بھی دھوبری سیٹ سے ووٹ ڈالا، جہاں سے وہ خود امیدوار ہیں۔
مسلمان ووٹ کا بڑا رول:
اس بار آسام انتخابات میں مسلمان ووٹ بینک سب سے زیادہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ آسام کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 35 فیصد ہے۔ اگر یہ ووٹ ایک پارٹی کے حق میں مکمل طور پر متحد ہو جائے تو اس پارٹی کی جیت تقریباً طے سمجھی جاتی ہے۔ تاہم پچھلے دو انتخابات میں مسلمان ووٹوں میں بٹوارہ دیکھا گیا، جس کا فائدہ بی جے پی کو ملا۔
ڈی لمیٹیشن کا بڑا اثر:
حلقوں کی نئی حد بندی (Delimitation) کے بعد مسلمانوں کے غلبہ والی سیٹیں 30 سے گھٹ کر صرف 22 رہ گئی ہیں۔ اب صرف دھوبری، بارپیٹا، گولپارہ جیسے علاقوں میں مسلمان ووٹر نتیجہ طے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
کانگریس بمقابلہ AIUDF:
2021 میں کانگریس اور AIUDF نے مل کر الیکشن لڑا تھا، جس سے مسلمان ووٹ متحد ہوا تھا۔ اس بار دونوں الگ الگ لڑ رہے ہیں، جس سے مسلمان ووٹ کے بٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔صرف 27 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ بدرالدین اجمل کے لیے یہ الیکشن کافی اہم ہے۔کیوں کہ یہ الیکشن بدرالدین اجمل کے لیے مستقبل کی سیاست طئے کرنے والی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں آسام میں جس طرح موجودہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں پریشان کیا گیا،اس دوران نہ تو کانگریس اور نہ ہی اے آئی یو ڈی ایف کو مسلمانوں کے حق میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہوتے دیکھا گیا۔ اسکے باوجود کانگریس مسلم ووٹ بینک کو دوبارہ اپنے پاس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر مسلمان ووٹ بٹ گیا تو اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی اپنا ووٹ بینک مضبوط کر چکی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں آسام میں جس طرح موجودہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں پریشان کیا گیا،اس دوران نہ تو کانگریس اور نہ ہی اے آئی یو ڈی ایف کو مسلمانوں کے حق میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہوتے دیکھا گیا۔ اسکے باوجود کانگریس مسلم ووٹ بینک کو دوبارہ اپنے پاس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر مسلمان ووٹ بٹ گیا تو اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی اپنا ووٹ بینک مضبوط کر چکی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ مسلمان ووٹ یکجا رہے گا یا بٹے گا، لیکن اس کا فیصلہ آسام کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔تاہم ووٹنگ کا عمل جاری ہے، نتائج 4 مئی 2026 کو آئیں گے۔ جس وقت یہ واضح ہوگا کہ آسام کے مسلم کس پارٹی پر بھروسہ کیا ۔