Friday, August 21, 2026 | 06 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اکیس ہندوستانی ملاح خطرے میں، ایرانی فورسز کی فائرنگ کی ویڈیوں منظر عام پر

اکیس ہندوستانی ملاح خطرے میں، ایرانی فورسز کی فائرنگ کی ویڈیوں منظر عام پر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 21, 2026 IST

اکیس ہندوستانی ملاح خطرے میں، ایرانی فورسز کی فائرنگ کی ویڈیوں منظر عام پر
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں 21 ہندوستانی ملاحوں والے ایک تجارتی جہاز پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ویڈیو میں دکھایا گیا واقعہ نیا نہیں بلکہ 22 اپریل کو پیش آیا تھا۔ فارورڈ سیمن یونین آف انڈیا (FSUI) نے 20 اگست کو اس واقعے کی ویڈیو جاری کی، جس کے بعد یہ معاملہ دوبارہ خبروں میں آیا۔ یونین کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 22 افراد سوار تھے، جن میں 21 ہندوستانی شہری شامل تھے۔ ویڈیوں میں جہاز کے قریب کئی چھوٹی کشتیاں نظر آتی ہیں۔ یونین کا دعویٰ ہے کہ ان کشتیوں میں موجود افراد نے جہاز پر فائرنگ کی، جس کے بعد عملے نے اپنی جان بچانے کے لیے جہاز کے اندر پناہ لی۔

 ایرانی فورسز کی کشتیاں جہاز کے قریب پہنچیں

فارورڈ سیمن یونین آف انڈیا کے مطابق جہاز کو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور(IRGC) کی کشتیوں نے گھیر لیا تھا۔ یونین کا کہنا ہے کہ یہ عام سمندری قزاق نہیں تھے بلکہ ایرانی فورسز سے منسلک افراد تھے۔ یونین کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوں میں ایک راکٹ سے چلنے والے ہتھیار سے فائر کیے جانے کا منظر بھی دکھائی دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فائرنگ کے دوران جہاز پر موجود عملہ خوف زدہ ہوگیا اور اپنی حفاظت کے لیے اندر چلا گیا۔ "FSUI" نے کہا کہ جنگی یا کشیدگی والے سمندری علاقوں میں کام کرنے والے ملاحوں کی حفاظت کے لیے صرف حفاظتی ہدایات کافی نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں ان کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

 آبنائے ہرمز میں ہندوستانی ملاح پہلے بھی خطرے میں رہے

یہ پہلا موقع نہیں جب اس تنازع کے دوران ہندوستانی ملاحوں کو خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 22 اپریل کو ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فورسز نے آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہازوں کو قبضے میں لیا ہے۔ اسی دن تین غیر ملکی تجارتی جہازوں پر فائرنگ کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔ ہندوستانی  وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مطابق، ان جہازوں پر مجموعی طور پر 22 ہندوستانی ملاح موجود تھے۔ ہندوستانی حکومت نے اس وقت کہا تھا کہ تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔

 تنازع میں ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں

امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی کے دوران بعض تجارتی جہاز بھی متاثر ہوئے، جن پر ہندوستانی شہری عملے کا حصہ تھے۔ رپورٹس کے مطابق جون میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی کاروائیوں کے دوران تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہندوستان  نے امریکہ سے اپیل کی تھی کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ جولائی تک سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ مختلف حملوں کے دوران کم از کم آٹھ ہندوستانی ملاح ہلاک ہو چکے تھے۔  یہ تعداد مختلف ذرائع اور رپورٹوں کے مطابق بتائی گئی تھی۔

کئی جہاز کئی ہفتوں تک پھنسے رہے

تنازع کے باعث صرف فائرنگ اور حملوں کا خطرہ ہی نہیں بڑھا بلکہ کئی تجارتی جہاز آبنائے ہرمز اور خلیج کے علاقے میں طویل عرصے تک پھنسے رہے۔ ایک ہندوستانی ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ ان کا جہاز 23 افراد کے عملے اور تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار ٹن تیل کے ساتھ 75 دن تک آبنائے ہرمز میں پھنسا رہا۔ ان کے مطابق اس دوران میزائلوں کی آوازوں اور حملوں کے خطرے کی وجہ سے عملے کو مسلسل خوف اور ذہنی دباؤ کا سامنا رہا۔

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کم ہوئی

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ یہ دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ رپورٹس کے مطابق تنازع سے پہلے روزانہ 130 سے زیادہ جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، لیکن لڑائی شروع ہونے کے بعد جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی۔ بعض دنوں میں صرف چند تجارتی جہاز ہی آبنائے سے گزر سکے۔

 ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت پر تشویش

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے اور بڑی تعداد میں ہندوستانی ملاح بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر کام کرتے ہیں۔ اس لیے اس علاقے میں جاری کشیدگی ہندوستان کے لیے انسانی اور تجارتی دونوں لحاظ سے اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ FSUI نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ یا شدید کشیدگی والے سمندری علاقوں میں کام کرنے والے ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت کے لیے مزید مضبوط اقدامات کیے جائیں اور صرف حفاظتی ہدایات پر انحصار نہ کیا جائے۔
 
آبنائے ہرمز میں 21 ہندوستانی ملاحوں والے تجارتی جہاز پر فائرنگ کی ویڈیوں 20 اگست کو سامنے آئی اور 21 اگست کو یہ معاملہ دوبارہ خبروں میں آیا۔  ویڈیوں میں دکھایا گیا واقعہ 22 اپریل کا ہے، اس لیے اسے آج ہونے والا نیا حملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ FSUI کے مطابق جہاز کو ایرانی فورسز سے منسلک کشتیوں نے گھیر کر فائرنگ کی تھی، جس کے بعد عملے نے جہاز کے اندر پناہ لی تھی۔