مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ایک جوڑے اور ان کے 18 سالہ بیٹے کی پہاڑی کی چٹان سے گر کر موت ہو گئی۔حکام نے جمعہ کو بتایا کہ مبینہ طور پر والدین نوجوان کو اپنی زندگی ختم کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق، نوجوان ایک پہاڑی کے کنارے پر کھڑا تھا جب اس کے والدین اور دیگر نے اسے محفوظ مقام پر جانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش میں تقریباً تین گھنٹے گزارے۔
پہاڑی سے کود کرجان دینے کی دھمکی
میڈیا رپورٹ کےمطابق ،جوڑے کا بیٹا اپنے والدین کو دھمکیاں دیتا رہا "میں چھلانگ لگانے جا رہا ہوں،" ۔یہ واقعہ جسے سیاحوں اور مقامی لوگوں نے ویڈیو میں محفوظ کیا، وہ چھترپتی سمبھاج نگر ضلع کے کھاوڈا ہل پر پیش آیا۔جمعہ کی صبح تقریباً 10 بجے دیولائی علاقہ کا رہنے والا 18 سالہ نوجوان پہاڑی کے کنارے پر گیا اور اپنی جان لینے کی دھمکی دی۔جس کے بعد مقامی لوگوں اور اس کی ماں نے اس سے بحث کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اسے اپنے مستقبل اور اپنے والدین کے بارے میں سوچنے پر زور دیا، لیکن وہ اپنی جان لینے کے لیے پرعزم رہا۔
بیٹا اور والد پہاڑ سے گرگئے
عینی شاہدین کے مطابق، نوجوان کے والد، جو ابتدائی طور پر اسے پہاڑی کے نیچے سے پیچھے ہٹنے کی تلقین کر رہے تھے، آخری 15-20 منٹ کے دوران اوپر چڑھ گئے۔ جیسے ہی لڑکا کنارے کے قریب جاتا رہا، باپ نے اسے دوبارہ اس سے دور جانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
دوپہر ایک بجے کے قریب اس نے اپنے بیٹے کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن دونوں توازن کھو بیٹھے اور پہاڑی سے گر گئے۔
ماں بھی پہاڑی سے کود پڑی
اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے شوہر اور بیٹے کو وادی میں گرتے دیکھ کر حیران رہ جانے والی ماں بھی لمحوں میں پہاڑی سے نیچے گر گئی۔ اس حادثے میں تینوں افراد موقع پر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس وہاں موجود تھی لیکن واقعہ کو روکنے میں ناکام رہی۔ کچھ لوگوں نے اس واقعے کو اپنے موبائل فون پر فلمایا جو گھنٹوں تک جاری رہا
نوجوان نے کسی کی نہیں سنی
پولیس اہلکار جو موقع پر موجود تھے، نے بھی نوجوان کو چٹان سے ہٹنے پر راضی کرنے کی ناکام کوشش کی۔ایک عینی شاہد، جس کی شناخت سنجے جادھو کے نام سے ہوئی ہے، نے بتایا کہ والدین اور دیگر افراد نے نوجوان کو منانے کی بارہا کوششیں کیں۔جادھو نے ا بتایا، "والدین اور دوسروں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن اس نے ایک نہ سنی اور پہاڑی کے کنارے کھڑا رہا۔ پولیس اہلکار بھی وہاں موجود تھے،"اس نے مزید کہا، "ماں اس سے التجا کرتی رہی کہ وہ چھلانگ نہ لگائیں۔"