• News
  • »
  • صحت
  • »
  • کیا ورزش اور متوازن غذا سے ہڈیوں کی بیماریوں پر قابو ممکن ہے؟

کیا ورزش اور متوازن غذا سے ہڈیوں کی بیماریوں پر قابو ممکن ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 17, 2026 IST

کیا ورزش اور متوازن غذا سے ہڈیوں کی بیماریوں پر قابو ممکن ہے؟
منصف ٹی وی کے خاص پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں آج ہڈیوں کی ایک اہم اور عام بیماری 'آسٹیوپوروسس' (Osteoporosis) اور اس کے مؤثر علاج و احتیاطی تدابیر پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ماہر معالج ڈاکٹر ای۔ ایس۔ رادھے شیام نے ناظرین کو اس بیماری کی وجوہات، علامات اور جدید علاج کے بارے میں آگاہ کیا۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

ڈاکٹر رادھے شیام کے مطابق آسٹیوپوروسس ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیاں کمزور اور بھربھری ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں معمولی چوٹ یا دباؤ سے بھی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماری خاص طور پر خواتین میں مینوپاز کے بعد زیادہ دیکھی جاتی ہے، تاہم مرد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ یہ مرض بنیادی طور پر کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، سگریٹ نوشی، اور بڑھتی عمر کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ادویات اور ہارمونل تبدیلیاں بھی اس بیماری کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔
 
پروگرام میں بتایا گیا کہ آسٹیوپوروسس کی ابتدائی علامات زیادہ واضح نہیں ہوتیں، تاہم کمر درد، قد میں کمی، جھکاؤ، اور ہڈیوں کا بار بار ٹوٹنا اس کی نمایاں نشانیاں ہیں۔ اس کی بروقت تشخیص کے لیے Bone Density Test (ڈی ایکسا اسکین) کو مؤثر طریقہ قرار دیا گیا۔
 
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر رادھے شیام نے کہا کہ متوازن غذا، خاص طور پر کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ دودھ، دہی، پنیر، سبز پتوں والی سبزیاں اور مچھلی اس ضمن میں مفید ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش، خاص طور پر وزن اٹھانے والی اور واک جیسی سرگرمیاں ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ بعض مریضوں کو ادویات کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جن میں کیلشیم سپلیمنٹس، وٹامن ڈی، اور مخصوص ہڈیوں کو مضبوط بنانے والی دوائیں شامل ہیں۔ تاہم ان کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیا جانا چاہیے۔
 
پروگرام کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ آسٹیوپوروسس ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے، بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص اور مناسب طرزِ زندگی اپنایا جائے۔ ناظرین کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی غذا، ورزش اور طبی معائنے کو معمول کا حصہ بنائیں تاکہ اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔