• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • طالبان حکومت نے بینکنگ سسٹم سے سود کیا ختم، اسلامی ماڈل نافذ

طالبان حکومت نے بینکنگ سسٹم سے سود کیا ختم، اسلامی ماڈل نافذ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 17, 2026 IST

طالبان حکومت  نے بینکنگ سسٹم سے سود  کیا ختم، اسلامی ماڈل نافذ
افغانستان حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پورے بینکنگ سسٹم سے سود کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔افغانستان کے مرکزی بینک "دا افغانستان بینک" (Da Afghanistan Bank) کے بینکنگ اور مالیاتی خدمات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لطف اللہ خیرخوا نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام کمرشل بینکوں میں سود (ربا) کا نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کہا کہ اب بینکنگ سسٹم کو سود پر مبنی لین دین سے ہٹا کر مکمل طور پر اسلامی بینکنگ ماڈل کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
 
بینکنگ سسٹم کو اسلامی ماڈل میں تبدیل کرنے کی تیاری  :
 
ڈاکٹر لطف اللہ خیرخوا کے مطابق یہ تبدیلی محض رسمی آغاز نہیں بلکہ ایک گہرا ڈھانچہ جاتی تبدیلی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی معاشی نظام سے سود کے پورےنظام اور پہلوؤں کو ختم کر کے شریعت کے اصولوں کے مطابق مالیاتی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی بینکنگ نظام فی الحال بری حالت میں ہے اور اسے مکمل طور پر اسلامی ماڈل میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔
 
قابل ذکر ہے کہ "دا افغانستان بینک" پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ اسلامی بینکنگ اصولوں کے تحت سود لینا یا دینا حرام ہے۔ اسی سمت میں ملک کے روایتی بینکنگ سسٹم کو منظم طریقے سے آہستہ آہستہ اسلامی شریعت قانون کے مطابق بنانے کی کوشش طویل عرصے سے جاری تھی۔ طالبان حکومت کے اس فیصلے نے بین الاقوامی سطح پر بھی لوگوں کا توجہ کھینچا ہے۔
 
عمان کے گرینڈ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر افغانستان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے دیگر مسلم ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اس سمت میں آگے بڑھیں۔ افغان حکام کے مطابق، ملک کی مالیاتی اداروں کو مکمل طور پر سود سے پاک بنا کر معیشت کو اسلامی قوانین کے مطابق ڈھالنے کی سمت میں یہ ایک فیصلہ کن اقدام ہے، جسے اب مکمل سنجیدگی کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔