اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران میں امریکہ اسرائیل فوجی فائدہ کو ایک ایسے مذاکراتی معاہدے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جو اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرے۔ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہاکہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ آئی ڈی ایف اور امریکی فوج کی زبردست کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کے مقاصد کو ایک سمجھوتے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو ہمارے اہم مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم ہر حال میں اپنے اہم مفادات کا دفاع کریں گے۔ ہم ایک ہی وقت میں ایران اور لبنان میں حملے جاری رکھیں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے زور دیکر کہاکہ جاری حملے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کررہے ہیں اور حزب اللہ کو نقصان پہنچارہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابیان :
وہیں ایران جنگ کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ آئندہ پانچ دنوں تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ نہیں کرے گا۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو کھولنا پڑے گا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بہت اچھی اور بامعنی بات چیت ہوئی ہے جس سے تنازعہ کا مکمل اور جامع حل نکل سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران نے گزشتہ دو دنوں میں بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت کی ہے اور ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف منصوبہ بند حملوں پر پانچ دن کے وقفے کا اعلان کیا ۔ تاہم ایران نے فوری طور پر ایسی کسی بھی مصروفیت کی تردید کی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ کوئی براہ راست یا بالواسطہ بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔