جموں و کشمیر کے نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) کے ملازمین نے 9 ستمبر سے 72 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے دیرینہ مطالبات پر ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یہ فیصلہ 5 ستمبر کو ہوئی ایک آن لائن میٹنگ میں لیا گیا۔ اس میٹنگ میں جموں اور کشمیر دونوں علاقوں کے 'NHM' ملازمین اور ان کے نمائندے شامل ہوئے۔ کمیٹی نے حکومت کو پہلے ہی 5 ستمبر تک کا وقت دیا تھا اور مطالبات حل کرنے کے لیے کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن مقررہ وقت گزرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب یا عملی قدم سامنے نہیں آیا۔
اس کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تمام 'NHM' ملازمین 9 ستمبر سے 72 گھنٹے تک ہڑتال کریں گے۔ اس میں ضلع، بلاک اور فیلڈ سطح پر کام کرنے والے ملازمین بھی شامل ہوں گے۔ 'NTEP' اور 'NHM' کی دوسری اسکیموں میں کام کرنے والے ملازمین بھی ہڑتال میں شامل ہوں گے۔
جموں ڈویژن کے 'NHM' ملازمین کے صدر ڈاکٹر وکاس شرما نے کہا کہ ہڑتال کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ملازمین نے کئی بار حکومت سے بات کی، درخواستیں دیں اور یقین دہانیاں بھی ملیں، لیکن ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ انہوں نے جموں کے تمام 'NHM' ملازمین سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کے دوران متحد، پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ رہیں۔
کشمیر ڈویژن کے 'NHM' ملازمین کے صدر منیر اندرابی نے بھی کہا کہ ملازمین نے حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کافی کوشش کی، لیکن کوئی ٹھوس کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہڑتال کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔'NTEP' جموں و کشمیر کے صدرمصدق رفیق پّرا نے کہا کہ 'NTEP' اور 'NHM' کی دوسری اسکیموں میں کام کرنے والے ملازمین بھی ہڑتال کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سرکاری صحت کے نظام میں 'NHM' ملازمین کا اہم کردار ہے اور حکومت کو ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ ہڑتال حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بار بار کوششیں ناکام ہونے کے بعد آخری راستے کے طور پر کی جا رہی ہے۔
کمیٹی نے تمام 'NHM' ملازمین سے ہڑتال میں مکمل تعاون کرنے اور متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔ ملازمین سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف کمیٹی کی طرف سے جاری کی جانے والی سرکاری معلومات پر عمل کریں۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ وہ اب بھی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ 'NHM 'ملازمین کے مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔