جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے کے حوالے سے پورے ملک میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ صدیوں سے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے ماننے والوں کے پرامن بقائے باہمی کی علامت رہا ہے، جہاں محبت، احترام اور باہمی اعتماد کی روایت آج بھی قائم ہے۔
وہ سرینگر میں نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (NCPUL) اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ "انٹر فیتھ ڈائیلاگ" پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ مہاراجہ کرن سنگھ، این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم ڈی شمس اقبال، مختلف مذاہب کے مذہبی رہنما، ماہرین تعلیم، دانشور، سماجی کارکن اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں ہندو اکثریت ہونے کے باوجود تمام مذاہب کو مساوی عزت، آزادی اور ترقی کے مواقع فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گوناگوں ثقافت، مذہبی تنوع اور آئینی اقدار میں مضمر ہے، جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی روایات کو برقرار رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صوفی روایت، رشی ثقافت اور مشترکہ تہذیب نے ہمیشہ محبت، امن اور اخوت کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں مذہبی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں نفرت، انتہا پسندی اور تقسیم کی سوچ کو شکست دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور دانشوروں کے درمیان مسلسل مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ایسے پروگرام باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہیں اور نوجوان نسل کو رواداری، برداشت اور احترامِ انسانیت کا پیغام دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم، ثقافت اور مکالمے کے ذریعے ہی ایک مضبوط، متحد اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ مہاراجہ کرن سنگھ اور این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم ڈی شمس اقبال نے بھی بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور اردو زبان کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ ہندوستان کی پہچان اس کی کثرت میں وحدت ہے، اور اسی جذبے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر مختلف مذاہب کے نمائندوں نے امن، بھائی چارے، رواداری اور قومی اتحاد کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب مکالمہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کی مضبوط بنیاد ہے۔