وزیرِ اعظم نریندر مودی سیشلز (Seychelles) کے تین روزہ تاریخی سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم مودی کا یہ دورہ بحر ہند کے خطے میں سلامتی، خوشحالی اور باہمی سمندری تعاون کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے خطے کی جیو پولیٹکس اور دو طرفہ شراکت داری میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
وزیرِ اعظم مودی 27 سے 29 جون، 2026 تک سیشلز میں قیام کریں گے، جہاں وہ ملک کے قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔
اس دورے سے کیا تبدیلیاں آئیں گی؟
وزیرِ اعظم مودی کے اس دورے اور سیشلز کے صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمنی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں درج ذیل اہم تبدیلیاں اور پیش رفت متوقع ہیں:
1. 'وژن مہاساگر' اور بحری سلامتی کا فروغ
سیشلز بھارت کا ایک اہم سمندری پڑوسی ہے۔ اس دورے سے بحر ہند کے علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان بحری تعاون (Maritime Cooperation) میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ بھارت کے 'وژن مہاساگر' کے تحت ایک "محفوظ، پرامن اور خوشحال" بحر ہند کے مشترکہ ہدف کو آگے بڑھایا جائے گا، جس سے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید مضبوط ہوگی۔
2. گلوبل ساؤتھ کے مفادات کا تحفظ
دونوں ممالک ترقی پذیر ممالک یعنی 'گلوبل ساؤتھ' (Global South) کے بین الاقوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اب مشترکہ طور پر زیادہ سرگرمی سے کام کریں گے۔ باہمی اعتماد اور مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی یہ دوستی بین الاقوامی فورمز پر دونوں ملکوں کے موقف کو یکساں بنائے گی۔
3. تاریخی پارلیمانی روایات کا آغاز
وزیرِ اعظم نریندر مودی سیشلز کی قومی اسمبلی سے خطاب کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیرِ اعظم بنیں گے۔ یہ تاریخی موقع دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کو مزید گہرا کرے گا۔
4. ہندوستانی تارکین وطن (Indian Diaspora) کا مضبوط کردار
سیشلز میں مقیم متحرک ہندوستانی برادری، جو نسلوں سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک "زندہ پل" کا کردار ادا کر رہی ہے، کے ساتھ وزیرِ اعظم خصوصی ملاقات کریں گے۔ اس سے عوامی سطح پر (People-to-People) تعلقات اور ثقافتی روابط کو نئی توانائی ملے گی۔
وزیرِ اعظم مودی کا بیان
مجھے پورا یقین ہے کہ میرا یہ دورہ سیشلز کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا کرے گا، بحر ہند کے علاقے میں بحری تعاون کو فروغ دے گا اور ایک محفوظ، پرامن اور خوشحال خطے کے ہمارے مشترکہ وژن کو آگے بڑھائے گا۔