کنگنا رناوت نے اداکارہ شرمیلا ٹیگور کے وندے ماترم سے متعلق حالیہ تبصروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کنگنانے کہا کہ قومی گیت کو صرف مذہبی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس میں موجود شاعری، علامتوں اور قومی جذبے کو بھی سمجھنا چاہیے۔ کنگنا رناوت نے جمعرات کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شرمیلا ٹیگور کے ایک حالیہ انٹرویوں کی ویڈیوں شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ شرمیلا ٹیگور کے اپنے بیان کرنے کے حق کا احترام کرتی ہیں، لیکن وہ وندے ماترم کے بارے میں شرمیلا ٹیگور کی رائے سے متفق نہیں ہیں۔
کنگنا نے فن اور شاعری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شاعر اور فنکار اکثر اپنے خیالات اور جذبات بیان کرنے کے لیے استعاروں اور علامتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وندے ماترم میں شکتی کا ذکر صرف مذہبی عبادت کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ اسے طاقت اور قوت کی علامت کے طور پر بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ کنگنا نے کہا کہ وندے ماترم میں قوم کے اندر موجود طاقت کو بیدار کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وندے ماترم کو صرف مذہبی گیت سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس میں اس سے کہیں زیادہ وسیع پیغام اور جذبات بیان کیے گئے ہیں۔ کنگنا نے مزید کہا کہ لوگوں کو وندے ماترم پر گفتگو کرتے ہوئے ہندو اور مسلم کی تقسیم سے آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کو مختلف شعبوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے اور اسے صرف کسی ایک مذہب سے جوڑنا درست نہیں۔
وندے ماترم کیا ہے؟
وندے ماترم بنکم چندر چٹوپادھیائے نے 1870 کی دہائی میں لکھا تھا۔ بعد میں اسے ان کے مشہور ناول آنند مٹھ میں شامل کیا گیا۔ یہ گیت ہندوستان کے قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے پہلے دو بندوں میں ہندوستان کی خوبصورتی، زمین اور زرخیزی کو بیان کیا گیا ہے۔ گانے کے بعد کے بندوں میں ہندو دیویوں، خاص طور پر درگا، لکشمی اور سرسوتی کے حوالے بھی ملتے ہیں۔ اسی وجہ سے وندے ماترم کے بعض حصوں پر مختلف اوقات میں مذہبی اور سیاسی بحث ہوتی رہی ہے۔
شرمیلا ٹیگور نے کیا کہا تھا؟
شرمیلا ٹیگور نے ایک حالیہ انٹرویوں میں وندے ماترم کے کچھ حصوں سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کے تبصروں کے بعد اس گانے کے مذہبی حوالوں اور اس کی تشریح پر دوبارہ بحث شروع ہوگئی۔ اسی بحث میں کنگنا نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم کو صرف مذہبی نظریے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
کنگنا کا بنیادی مؤقف
کنگنا کا کہنا ہے کہ وندے ماترم میں استعمال ہونے والی مذہبی اور طاقت کی علامتوں کو وسیع تر معنوں میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق شاعری میں الفاظ ہمیشہ لفظی معنی میں استعمال نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی بڑے خیال یا جذبے کی نمائندگی بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہندو مسلم تقسیم سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کریں۔ یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وندے ماترم کی تاریخی حیثیت، اس کے مذہبی حوالوں اور قومی شناخت سے متعلق اس کے کردار پر ایک بار پھر عوامی سطح پر گفتگو جاری ہے۔