کشمیرکی تین بڑی جامعات نے امریکہ میں قائم غیر سرکاری تنظیم کشمیر کیئر فاؤنڈیشن (KCF) کے ساتھ اپنے تعلیمی معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔ ان اداروں میں شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SKUAST-K)، یونیورسٹی آف کشمیر، اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IUST) شامل ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق یہ فیصلے داخلی جائزے کے بعد کیے گئے۔
تنظیم کی سرگرمیوں پراعتراض
خفیہ ایجنسیز نے کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں پر اعتراض ظاہر کیا۔کشمیر کیئر فاؤنڈیشن (KCF)، جس کا ہیڈکوارٹر امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ہے اور جو ایک غیر منافع بخش، غیر مذہبی اور غیر سیاسی تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے، نے 2025 میں کشمیر یونیورسٹی (KU)، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IUST) اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کشمیر (SKUAST) کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدے تنظیم کے قیام کے ایک سال بعد کیے گئے تھے۔ تینوں یونیورسٹیوں نے الگ الگ سرکاری خطوط کے ذریعے KCF کو ان معاہدوں کی منسوخی کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
SKUAST-K کے ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ میمو کے مطابق 15 اپریل 2025 کو کشمیر کیئر فاؤنڈیشن کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ حکم 25 مارچ 2026 کو ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ہارون آر نائک کی منظوری سے جاری کیا گیا۔
اسی طرح یونیورسٹی آف کشمیر نے بھی اپنے اعلامیے میں کہا کہ 15 دسمبر 2025 کو طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (MoU) کا جائزہ لینے کے بعد اسے ادارے کے وسیع تر مفاد کے خلاف قرار دیا گیا، جس کے بعد اسے فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔ رجسٹرار پروفیسر ناصر اقبال کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق پر کوئی مالی یا قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی رقم منتقل کی گئی۔
اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اونتی پورہ نے بھی ایک علیحدہ نوٹس کے ذریعے اسی فاؤنڈیشن کے ساتھ اپنے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا۔ یونیورسٹی کے مطابق یہ فیصلہ بھی مجاز حکام کے جائزے کے بعد کیا گیا اور معاہدے کو فورس میجر شق کے تحت ختم کیا گیا۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاہدے کے تحت کوئی مالی یا معاہداتی ذمہ داریاں پیدا نہیں ہوئیں۔
یہ تمام معاہدے دراصل تعلیمی اشتراک، تحقیق، اور علمی تبادلے کے فروغ کے لیے کیے گئے تھے۔ تاہم تینوں جامعات کی جانب سے بیک وقت اس طرح کے فیصلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان اداروں میں بین الاقوامی اشتراکات کے حوالے سے ایک وسیع تر نظرثانی جاری ہے، اگرچہ ہر ادارے نے اپنی سطح پر الگ الگ فیصلے کیے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی میں دسمبر 2025 میں ہونے والا مشترکہ معاہدہ تعلیمی سرگرمیوں جیسے ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر علمی پروگراموں کو فروغ دینے کے لیے تھا، خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، ہیومینیٹیز اور متعلقہ شعبوں میں۔تاہم یونیورسٹی کی جانب سے فاؤنڈیشن کے صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ اس معاہدے کو جاری رکھنا "ادارے کے وسیع تر مفاد میں نہیں" ہے۔ اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے "فورس میجر" کی شق کا استعمال کیا۔ یونیورسٹی کے مطابق اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق پر کوئی مالی، معاہداتی یا دیگر ذمہ داری عائد نہیں ہوئی، اور اس خط کو باضابطہ منسوخی کا نوٹس سمجھا جائے۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں تعلیمی اشتراک کے مستقبل پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔