سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں، انہیں مغربی بنگال کے آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ ایسا کرنا انتخابی نظام میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
ایس آئی آر پر سپریم کورٹ میں سماعت
چیف جسٹس سوریا اور جسٹس Joymalya Bagchi پر مشتمل بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ریاست میں الیکٹورل رولز کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی جا رہی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر زیر التوا اپیلوں والے افراد کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے تو پھر دیگر ووٹرز کے حقوق پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے۔
ووٹر لسٹ سے خارج ہونے پر34 لاکھ اپیلیں دائر
عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک 34 لاکھ سے زائد افراد نے اپنے نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ کیے جانے کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل Kalyan Bandopadhyay نے مؤقف اختیار کیا کہ مغربی بنگال کے عوام کو عدالت سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔
زیرالتوا معاملات پر ووٹنگ کی اجازت ممکن نہیں
جسٹس باگچی نے کہا کہ جن افراد کی اپیلیں 9 اپریل تک منظور ہو جائیں گی، ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں، تاہم زیر التوا معاملات والے افراد کو ووٹنگ کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اپیلٹ ٹریبونلز پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔
ٹی ایم سی لیڈر کلیان بنرجی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ' ایس آئی آر ' کے ذریعے ووٹ کا حق کھونے والوں کو ووٹ کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ووٹ کا حق دیا جائے۔ اس سلسلے میں 16 لاکھ ووٹرز کی درخواستیں متعلقہ اداروں کے پاس زیر التوا ہیں اور انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کا کہا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ عدالت کا موقف تھا کہ یہ معاملہ متعلقہ ٹربیونلز کے پاس زیر التوا ہے اور ان کی مداخلت سے ان کے عدالتی عمل میں خلل پڑے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ' ایس آئی آر ' میں ووٹ کا حق کھونے والوں کو موقع دینے سے اس معاملے کی سماعت کرنے والے ٹربیونلز پر دباؤ بڑھے گا اور وہ غیر ضروری اور مبہم صورتحال پیدا نہیں کر سکتے۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ اگر اس کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ اس معاملے میں ملوث دوسروں کے حق رائے دہی کو چھیننے کے مترادف ہوگا۔
جسٹس جوئے مالیا نے کہا کہ سر سے متعلق 3.4 ملین درخواستیں پہلے ہی زیر التوا ہیں۔ اس تناظر میں واضح کیا گیا ہے کہ انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انتخابات سے پہلے، EC نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے 'ایس آئی آر ' کے بعد بہت سے ناموں کو ہٹا دیا۔ حتمی ووٹر لسٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ انتخابات سے قبل اس میں نئے ناموں کا اضافہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب تک سپریم کورٹ حکم نہیں دیتی اس معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابات رواں ماہ کی 23 اور 29 تاریخ کو ہوں گے۔
دوسری جانب عدالت نے مالدہ ضلع میں یکم اپریل کو پیش آنے والے واقعے کا بھی نوٹس لیا، جہاں ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے عدالتی افسران کا گھیراؤ کیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات National Investigation Agency (NIA) کر رہی ہے، جس نے عدالت میں اسٹیٹس رپورٹ بھی پیش کی۔
چیف جسٹس نے NIA کو ہدایت دی کہ گرفتار افراد کے سیاسی پس منظر کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف ایک رسمی کارروائی نہ ہو بلکہ مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
عدالت نے مزید ہدایت دی کہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں شامل عدالتی افسران کو فراہم کی گئی سیکیورٹی واپس نہ لی جائے جب تک عدالت کی اجازت نہ ہو۔ واضح رہے کہ اس عمل کے دوران 60 لاکھ سے زائد کیسز نمٹائے جا چکے ہیں، جبکہ لاکھوں اپیلیں اب بھی زیر التوا ہیں۔یہ فیصلہ مغربی بنگال کے انتخابی عمل پر اہم اثر ڈال سکتا ہے اور ووٹر لسٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کی سمت ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔