کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کے اجلاس میں پارٹی صدر ملکارجن کھرگے نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کو کئی اہم معاملات پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل، عوام کی مذہبی وابستگی اور قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات پر حکومت کو جواب دہ ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حقیقی صورتحال جاننا ہر شہری کا حق ہے اور قومی سلامتی کے معاملے میں کسی بھی سطح پر غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
مانسون اجلاس کےبعد پہلی میٹنگ
کھرگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس ہے، جس میں پارٹی کو ملک کے سامنے موجود اہم اور حساس مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت کانگریس کی سب سے بڑی اجتماعی تشویش ملک کے نوجوان ہیں، کیونکہ بھارت دنیا کے نوجوان ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہیں۔
نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے درمیان واضح راستہ درکار
کانگریس صدر نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور مختلف فلاحی اسکیموں کے درمیان نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کو مطلوبہ توجہ نہیں مل رہی۔
ملکارجن کھرگے نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کو اپنی پالیسیوں کے مرکز میں رکھا تھا۔ کھرگے کے مطابق راجیو گاندھی کے دور میں ووٹ ڈالنے کی عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کی گئی، ملک کے مختلف اضلاع میں جواہر نوودیہ ودیالیہ کا نیٹ ورک قائم کیا گیا اور نوجوانوں کو ملک کی تعمیر میں زیادہ فعال کردار دینے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سوامی وویکانند کی یوم پیدائش کو قومی یومِ نوجوان کے طور پر منانے کا سلسلہ بھی اسی دور میں شروع ہوا۔ ان کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی میں تعلیم کے ساتھ روزگار اور ہنرمندی کی ترقی کو جوڑنے پر بھی زور دیا گیا تھا۔
کھرگے نے کانگریس اور اس کی سابقہ حکومتوں کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے حق سے لے کر مختلف تعلیمی اداروں کے قیام اور ترقی تک کئی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے ملک میں آئی ٹی اور مواصلاتی انقلاب کو بھی گزشتہ حکومتوں کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا۔
’’94 ہزار اسکول بند ہوگئے‘‘
کانگریس صدر نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ گزشتہ تقریباً 12 برسوں میں تعلیم کے شعبے میں حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید مشکل ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ برسوں میں ملک میں نئے اسکول کھولنے کے بجائے تقریباً 94 ہزار اسکول بند ہوگئے۔
انہوں نے اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے باعث اعلیٰ تعلیم عام اور متوسط خاندانوں کے لیے مسلسل مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں نظریاتی مداخلت کا الزام بھی عائد کیا۔
تاہم یہ تمام الزامات کانگریس کی جانب سے مودی حکومت پر کی جانے والی سیاسی تنقید کا حصہ ہیں۔ کھرگے نے حکومت سے تعلیم کے شعبے میں پالیسیوں اور فیصلوں پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
پیپر لیک اور بھرتی امتحانات پر سوالات
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب نوجوان روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے تو اسے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق پیپر لیک، بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیاں اور تقرریوں میں تاخیر نے نوجوانوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر غریب اور کمزور معاشی پس منظر رکھنے والے طلبہ پر پڑتا ہے، کیونکہ وہ اپنی تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری پر وقت اور پیسہ خرچ کرتے ہیں، لیکن امتحانات میں بے ضابطگی یا تقرری میں تاخیر ان کی محنت کو متاثر کرتی ہے۔
کھرگے نے کہا کہ ملک بھر میں نوجوانوں کے درمیان جو غصہ اور بے چینی نظر آرہی ہے وہ اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت نے نوجوانوں کی شکایات سننے کے بجائے ہر بار عارضی حل تلاش کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں نوجوان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔
کانگریس نوجوانوں کے لیے ’Education-to-Employment Roadmap‘ بنائے گی
کانگریس صدر نے کہا کہ پارٹی نے نوجوانوں کے مسائل کو اپنے سیاسی ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کے ’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کو قومی سطح پر اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کھرگے نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی کانگریس نے تعلیم اور امتحانات سے متعلق مسائل پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا، لیکن ان کے مطابق حکومت نے ان سوالات سے بچنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کانگریس کے لیے بھی ایک واضح سمت متعین کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پارٹی نوجوانوں کے لیے ایک واضح، جامع اور مقررہ مدت پر مبنی Education-to-Employment Roadmap تیار کرے، تاکہ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو روزگار اور ہنرمندی کے مواقع تک پہنچنے کا واضح راستہ مل سکے۔
رام مندر معاملے پر بھی حکومت سے جواب مانگا
CWC اجلاس میں ملکارجن کھرگے نے رام مندر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ملک بھر کے لوگوں نے عقیدت اور اعتماد کے ساتھ چندہ، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا عطیہ کیں۔
کھرگے نے سوال اٹھایا کہ مندر کی تعمیر کے لیے کتنی رقم چندے کے طور پر جمع ہوئی، کتنا سونا اور چاندی موصول ہوا اور ان تمام عطیات کا حساب کتاب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں عوام کے سوالات کا جواب دیا جانا چاہیے اور صرف چند افراد کے خلاف کارروائی سے معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔
کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو سیاسی طور پر دبانے یا توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی تو عوام کے شکوک مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
چین کے ساتھ سرحدی صورتحال پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے: کھرگے
CWC اجلاس میں قومی سلامتی کا مسئلہ بھی اہم موضوع رہا۔ کھرگے نے چین کے ساتھ ہندوستانی سرحد سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ قومی سلامتی سے متعلق کسی سوال کو نظرانداز کردیا جائے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ملک کے شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ہندوستان کی سرحدوں پر حقیقی صورتحال کیا ہے۔ انہوں نے 2020 کی گلوان جھڑپ کے بعد وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’نہ کوئی داخل ہوا ہے اور نہ کوئی داخل ہوا ہے‘‘۔
کھرگے نے کہا کہ گلوان واقعے کے تقریباً چھ برس بعد بھی سرحد سے متعلق کئی سنجیدہ سوالات موجود ہیں، اس لیے حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔
فوج کے جوانوں کو سلام
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ فوج اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہی ہے اور کانگریس ملک کے فوجی جوانوں کے حوصلے اور جذبے کو سلام کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد فوج کے کام پر سوال اٹھانا نہیں بلکہ جمہوریت میں منتخب حکومت کی جواب دہی یقینی بنانا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔
’’کیا حکومت عوام کے اعتماد کے قابل ہے؟‘‘
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کھرگے نے نوجوانوں کے مستقبل، عوام کی مذہبی وابستگی اور ملک کی سرحدوں کو ایک وسیع سیاسی سوال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت عوام کے اعتماد پر پوری اتر رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو صرف حکومت پر تنقید تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عوام کے سامنے متبادل پالیسی اور قابل عمل حل بھی پیش کرنا ہوگا۔
کھرگے نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ملک کے سامنے ایک واضح متبادل پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو نوجوانوں، تعلیم، روزگار، قومی سلامتی اور عوامی اعتماد جیسے مسائل پر اپنی پالیسی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاری
کانگریس صدر نے پارٹی رہنماؤں کو یاد دلایا کہ آئندہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ عوام کے درمیان جائیں اور ان کے مسائل کو سمجھیں۔
CWC اجلاس میں کھرگے کی تقریر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کانگریس آنے والے سیاسی مرحلے میں نوجوانوں کے روزگار، تعلیم، قومی سلامتی اور عوامی اعتماد جیسے مسائل کو مرکزی موضوع بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
ملکارجن کھرگے کے بیان کے مطابق کانگریس کے سامنے اب دوہری ذمہ داری ہے: ایک طرف وہ مرکز کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے، اور دوسری طرف نوجوانوں اور عام شہریوں کے لیے ایسے متبادل پروگرام پیش کرے جنہیں عملی طور پر نافذ کیا جاسکے۔ آئندہ ریاستی انتخابات کے تناظر میں یہ مسائل پارٹی کی انتخابی حکمت عملی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔