وادی کشمیر کی تاریخی خانقاہ نقشبند صاحبؒ، خواجہ بازار سرینگر میں صدیوں پرانی روحانی و مذہبی روایت ’خواجہ دگر‘ آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر وادی کے مختلف علاقوں سے ہزاروں مرد و خواتین عقیدت مندوں نے شرکت کی اور عصر کی نماز سمیت خصوصی دعا، درود و اذکار میں حصہ لیا۔
’خواجہ دگر‘ ہر سال 3 ربیع الاول کو حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند صاحبؒ کے عرس کی مناسبت سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر خواجہ بازار اور خانقاہ نقشبند صاحبؒ کے اطراف میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر عصر کی نماز ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی، بھائی چارے اور عوام کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے ٹریفک مینجمنٹ اور طبی سہولیات سمیت مختلف انتظامات کیے گئے تھے۔
میرواعظ کشمیر گھر پر نظر بند
دوسری جانب میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے دعویٰ کیا کہ انہیں ’خواجہ دگر‘ سے قبل ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور انہیں خانقاہ نقشبند صاحبؒ میں مذہبی اجتماع سے خطاب کی اجازت نہیں دی گئی۔
ایک ویڈیو پیغام میں میرواعظ نے کہا کہ انہیں بار بار اپنے مذہبی فرائض اور اجتماعی مذہبی اجتماعات میں شرکت سے روکنا اب معمول بن گیا ہے۔ ان کے مطابق ہر سال ہونے والے اس روحانی اجتماع میں بڑی تعداد میں لوگ ان کی تقریر سننے کے منتظر رہتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ انہیں اجتماعی مذہبی مواقع پر بحیثیت میرواعظ خطاب کرنے سے روکنا افسوسناک ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان کے سیاسی مؤقف اور عوام کے سماجی و مذہبی مسائل کو اجاگر کرنے کی وجہ سے انہیں مذہبی اجتماعات سے دور رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکام کے رویے کو "انتہائی افسوسناک اور شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور مذہبی رسومات کے حوالے سے مسلسل بے حسی قابل تشویش ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے منتخب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر اور جموں کے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور عوام کو اپنے مذہبی فرائض آزادی کے ساتھ ادا کرنے کا موقع فراہم کرے۔