Thursday, April 23, 2026 | 05 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • کڈنی اسٹونز: کیا ہیں وجوہات، علامات اور علاج؟

کڈنی اسٹونز: کیا ہیں وجوہات، علامات اور علاج؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 23, 2026 IST

کڈنی اسٹونز: کیا ہیں وجوہات، علامات اور علاج؟
ڈاکٹروینومانے، سینئر یورولوجسٹ کیئر ہاسپٹلس چادرگھاٹ روڈ، ملک پیٹ، حیدرآباد نے منصف ٹی وی کے اسپیشل پروگرام ہیلتھ اور ہم میں، "گردے کی پتھری" کے موضوع پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر وینو مانےکڈنی اسٹونز (پتھری) کے مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک عام لیکن تکلیف دہ بیماری ہے جو اچانک شدید درد کا باعث بنتی ہے۔ کیئر اسپتال شادراگھاٹ حیدرآباد کے سینئر یورولوجسٹ ڈاکٹر وینو منے نے اس حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔

 کیوں ہوتےہیں کڈنی اسٹونز (گردے میں پتھری )

ڈاکٹر کے مطابق کڈنی اسٹونز دراصل گردوں میں معدنیات اور نمکیات کے جمع ہونے سے بنتے ہیں۔ عام غلط فہمی یہ ہے کہ یہ کھانے سے براہ راست بنتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کم پانی پینے اور غیر متوازن طرزِ زندگی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو پیشاب میں موجود کیلشیم، آکسیلیٹ اور دیگر اجزاء جمع ہو کر آہستہ آہستہ پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

 کڈنی اسٹونز (گردے میں پتھری ) کے اقسام 

انہوں نے بتایا کہ کڈنی اسٹونز کی کئی اقسام ہوتی ہیں، جن میں کیلشیم آکسیلیٹ، یورک ایسڈ، سسٹین اور انفیکشن سے بننے والی اسٹرُوائٹ پتھری شامل ہیں۔ ان کا انحصار مریض کی خوراک، طرزِ زندگی اور جینیاتی عوامل پر ہوتا ہے۔
 کیا ہیں اہم  علامات
علامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ شدید درد سب سے عام علامت ہے، خاص طور پر اس وقت جب پتھری پیشاب کی نالی میں پھنس جائے۔ اس کے علاوہ پیشاب میں خون آنا، جلن، بار بار انفیکشن اور متلی بھی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بیماری بغیر علامات کے بھی ہوتی ہے اور چیک اپ کے دوران معلوم ہوتی ہے۔

 کیسے تشخیص کریں 

تشخیص کے لیے سب سے پہلے الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے، تاہم مکمل معلومات کے لیے سی ٹی اسکین کو زیادہ مؤثر قرار دیا جاتا ہے، جس سے پتھری کا سائز، مقام اور نوعیت معلوم کی جا سکتی ہے۔

 کیسے ہوگا علاج ؟

علاج کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ پتھری کے سائز اور مقام پر منحصر ہوتا ہے۔ چھوٹی پتھریاں زیادہ پانی پینے سے خود خارج ہو سکتی ہیں، جبکہ بڑی پتھری کے لیے لیزر کے ذریعے جدید اور کم تکلیف دہ سرجری کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار بغیر چیرا لگائے کیا جاتا ہے اور مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔

 غذائی احتیاط

غذائی احتیاط کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نمک اور سرخ گوشت کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے، جبکہ مناسب مقدار میں پانی پینا سب سے اہم ہے۔ روزانہ کم از کم 2.5 سے 3 لیٹر پانی پینا چاہیے تاکہ گردے صاف رہیں۔ اس کے علاوہ پالک، ٹماٹر، چاکلیٹ اور خشک میوہ جات کا استعمال اعتدال میں کرنا چاہیے۔

 ڈاکٹر نے کیا خبردار

ڈاکٹر نے گھریلو ٹوٹکوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مستند جڑی بوٹیوں یا نسخوں کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے اور بعض اوقات گردوں یا جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی علاج سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

 پانی کا کریں زیادہ استعمال 

آخر میں انہوں نے کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور مناسب پانی کا استعمال کڈنی اسٹونز سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
 
اس موضوع پر سینئریورولوجسٹ، کیئر ہاسپٹلس، چادر گھاٹ روڈ، ملک پیٹ، حیدرآباد ڈاکٹر وینو مانے کی مکمل بات چیت یہاں دیکھئے۔